بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلیدہ کے علاقے زامران میں 8 جنوری 2026 کی صبح تقریباً دس بجے پاکستانی فوج نے تنظیم کے کیمپ پر ڈرون حملہ کیا، جس کے نتیجے میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے چار ساتھی شہید ہو گئے۔ شہداء میں حسین عرف کمال بلوچ، اکبر عرف تاھیر بلوچ، وسیم عرف میرو بلوچ اور حذیفہ عرف نودان بلوچ شامل ہیں۔ تنظیم اپنے ان بہادر اور محنتی ساتھیوں کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیپٹن حسین عرف کمال بلوچ ولد عبدالغفور ساکن بلیدہ گلی چرمن بازار نے 11 فروری 2021 کو تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔ حسین عرف کمال ایک بہادر اور محنتی ساتھی تھے اور کیمپ کے ڈپٹی کمانڈر کے طور پر تنظیمی قیادت میں اہم کردار رکھتے تھے۔ انہوں نے کیمپ کی نظم و ضبط، تربیت اور محاذوں کی منصوبہ بندی کی نگرانی کی اور ہر فیصلے میں حکمت عملی اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔ ان کی قیادت اور وابستگی نے ساتھیوں کے لیے مشعل راہ قائم کی اور تنظیمی مشن کو مضبوط بنایا
کیپٹن حسین عرف کمال کی قربانی اور کردار ساتھیوں کے حوصلے کو مستحکم کرتا ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے بہادری، ذمہ داری اور فرض شناسی کی مثال قائم کرتا ہے۔ تنظیم ہمیشہ ان کی خدمات اور قربانی کو قدر کی نگاہ سے یاد رکھے گی اور ان کا کردار مشعل راہ کے طور پر زندہ رہے گا۔
ترجمان نے کہا کہ اکبر عرف تاھیر بلوچ ولد یعقوب ساکن بلیدہ میناز نے 13 مارچ 2025 کو تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔ وہ تنظیم کیمپ میں چند عرصہ قبل آئے تھے اور وہ تنظیم کے شہری امور کے کاموں میں سرگرم رہے تھے کیمپ میں منتقل ہونے کے کچھ ہی عرصوں میں اپنی بہادری، محنت اور لگن کے ذریعے ہر ساتھی کے لیے مثال بن گئے۔ وہ ہر ذمہ داری کو پوری پابندی اور خلوص کے ساتھ انجام دیتے اور مختلف محاذوں پر فعال کردار ادا کرتے۔ ان کی قربانی اور محنت کو تنظیم ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ وسیم عرف میرو بلوچ ولد رسول بخش ساکن دشت نے 10 ستمبر 2025 کو تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔ چند عرصہ قبل کیمپ منتقل ہوئے تھے اس سے قبل وہ تنظیم ساتھوں سے رابطہ میں تھے۔ رسد اور وسائل کے کاموں سے وابستہ تھے وسیم عرف میرو اپنی جرات، محنت اور خلوص کے سبب ہر ساتھی کے لیے مشعل راہ بن گئے۔ ان کی ہمت اور نئے فرائض سیکھنے کا جذبہ انہیں ہر محاذ پر ممتاز کرتا تھا۔ وہ اپنی ذمہ داریوں کو دل و جان سے نبھاتے اور ہر کام میں نظم اور استقامت دکھاتے۔ ان کی قربانی اور وابستگی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ حذیفہ عرف نودان بلوچ ولد نور حامد ساکن مند نے 10 ستمبر 2025 کو تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔ کیمپ منتقلی سے قبل وہ تنظیم کے ساتھیوں سے رابطہ میں تھے۔ حذیفہ عرف نودان ایک محنتی اور فرض شناس ساتھی تھے۔ انہوں نے اپنی لگن، جرات اور سیکھنے کے جذبے سے ہر ساتھی کے لیے مثال قائم کی۔ وہ ہر چیز کو باریکی سے دیکھتے اور ہر نئے موقع پر سیکھنے اور بہتر کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کا خلوص اور محنت ساتھیوں کے لیے مشعل راہ تھا اور تنظیمی مشن کو مضبوط بنانے میں ان کا کردار نمایاں رہا۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے شہید ساتھی اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہوئے وطن کی دفاعی جدوجہد کا حصہ تھے۔ ان کی قربانی یہ ثابت کرتی ہے کہ جبر، تشدد کسی قوم کے حوصلے کو کمزور نہیں کر سکتے۔ دشمن کی کارروائیاں بلوچ عوام کے شعور اور مزاحمتی جذبے کو کبھی کمزور نہیں کر سکتیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ اپنے شہید ساتھیوں کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ یہ قربانیاں فراموش نہیں ہوں گی اور شہداء کا لہو، ان کا جذبہ اور قربانی ہمیشہ بلوچ قوم کے شعور، حوصلے اور آزادی کی جدوجہد میں زندہ رہے گی۔ یہ روشنی ہر آنے والی نسل کے لیے حوصلے اور قربانی کا پیغام لے کر آئے گی۔
ترجمان نے کہا کہ یہ قربانیاں ہمارے لیے فخر کی علامت ہیں اور یاد دلاتی ہیں کہ آزادی کی راہ آسان نہیں۔ اس کے لیے جذبہ، محنت، جرات اور خلوص ضروری ہیں۔ ہم اپنے شہداء کی یاد کو ہمیشہ زندہ رکھیں گے اور ان کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔















































