بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ایک پملفٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بلوچ قوم کو اس وقت ایک منظم، ریاستی سرپرستی میں جاری نسل کشی کا سامنا ہے، جو نہ صرف انسانی حقوق بلکہ اقوامِ متحدہ کے عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ ہر انسان زندہ رہنے کے حق کے ساتھ پیدا ہوتا ہے، اور دنیا کا کوئی بھی قانون نہ یہ حق عطا کر سکتا ہے اور نہ ہی کسی سے چھین سکتا ہے۔ اگر کسی قوم، زبان، مذہب یا شناخت کی بنیاد پر کسی گروہ کو زندہ رہنے کے حق سے محروم کیا جائے تو یہ عمل نسل کشی کے زمرے میں آتا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق نسل کشی کسی ایک واقعے یا حادثے کا نام نہیں بلکہ ایک منظم پالیسی کے تحت کسی قوم کو مکمل یا جزوی طور پر ختم کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی تعریف کے مطابق نسل کشی سے مراد وہ تمام اقدامات ہیں جو کسی قومی، نسلی یا مذہبی گروہ کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کرنے کی نیت سے کیے جائیں۔
مزید وضاحت کی گئی کہ مکمل نسل کشی میں قتلِ عام، شدید جسمانی و ذہنی تشدد، معاشی ناکہ بندی، قحط، علاج سے محرومی، جبری بانجھ پن (بائیولوجیکل جینوسائڈ) اور نئی نسل کو زبردستی دوسرے گروہوں میں منتقل کرنا شامل ہے۔جبکہ جزوی نسل کشی میں کسی قوم کے قابلِ شناخت طبقات—جیسے طلبہ، دانشور، سیاسی کارکن، خواتین—کو نشانہ بنانا، جبری گمشدگیاں، اور ثقافت و زبان کو مٹانا شامل ہے۔
شائع شدہ پمفلیٹ میں لکھا ہےکہ اگرچہ بلوچستان میں ایک مسلح تنازع موجود ہے، لیکن یہ صورتحال ریاستِ پاکستان کو ہرگز یہ حق نہیں دیتی کہ وہ بلوچ قوم کے خلاف نسل کشی کرے۔آئے روز ٹارگٹ کلنگ، اغوا کے بعد مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی، اجتماعی قبریں، جبری گمشدگیاں، اور حراستی تشدد ایسے شواہد ہیں جو واضح طور پر قتلِ عام کے زمرے میں آتے ہیں۔
مزید کہا گیا کہ گھروں پر چھاپے، چیک پوسٹوں پر تذلیل، روزگار کے مواقع کی بندش، سرحدی تجارت کی ممانعت، زرعی زمینوں پر قبضہ، اور جبری نقل مکانی جیسے اقدامات معاشی نسل کشی کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس کے نتیجے میں افلاس اور غذائی قلت میں شدید اضافہ ہوا ہے۔
ماحولیاتی و صحت کی تباہی
کوہِ سلیمان میں یورینیم کی ناکام افزودگی، خضدار میں ایٹمی سرگرمیاں، اور چاغی و خاران میں ایٹمی تجربات کے باعث کینسر، جلد، خون اور تھائیرائیڈ کے امراض میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ صحت کی بنیادی سہولیات نہ ہونے کے باعث ہر سال ہزاروں افراد جان کی بازی ہار رہے ہیں، جو ایک خاموش مگر مہلک نسل کشی ہے۔
بلوچ قوم کی ذمہ داری اور عالمی اپیل
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا کہ چونکہ بلوچ قوم نسل کشی کا شکار ہے، اس لیے اس پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اپنی قوم کو اس نسل کشی سے بچانا، اس نسل کشی کے شواہد کو منظم انداز میں جمع کر کے دنیا کے سامنے لانا
واضح کیا گیا کہ ریاستی پالیسی کا مقصد “بلوچستان بغیر بلوچ” ہے، تاکہ اس سرزمین اور اس کے وسائل کو بیرونی قوتوں کے مفادات کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ اس کے خلاف بلوچ قوم کو اپنی شناخت کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، کیونکہ شناخت سے دستبرداری بذاتِ خود نسل کشی کا حصہ ہے۔
بلوچوں سے اپیل
کمیٹی نے تمام بلوچوں سے اپیل کی ہے کہ ریاستی ڈیتھ اسکواڈز، سی ٹی ڈی، ایف سی یا فوج میں شامل ہو کر اپنے ہی لوگوں کے خلاف کارروائیاں فوری ترک کریں، منشیات، قبائلی جنگوں اور سماجی زہر کو مسترد کریں
،اپنی زبان، ثقافت اور قومی شعور کو زندہ رکھیں،ہر ظلم کو دستاویزی شکل دے کر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑیں
اختتام پر کہا گیا کہ یہ جدوجہد محض ایک دن یا ایک نسل کی نہیں بلکہ بلوچ قوم کی بقا کا سوال ہے۔ اگر آج کوتاہی برتی گئی تو آنے والی نسلیں اس کی بھاری قیمت ادا کریں گی


















































