بلوچستان پریوینشن ڈیٹینشن اینڈ ریڈیکلائزیشن رولز 2025
ٹی بی پی اداریہ
بلوچستان میں برسراقتدار جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے متنازع وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں جبری گمشدگیوں کو قانونی حیثیت دینے اور جبری گمشدہ افراد کو حراستی مراکز میں رکھنے کا متنازع فیصلہ کیا گیا، جہاں ان سے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے پولیس افسران کی نگرانی میں تفتیش کی جائے گی۔
پاکستان کی مقتدر قوتوں کی عنایت سے قائم حکومت کی جانب سے بلوچستان پریوینشن ڈیٹینشن اینڈ ریڈیکلائزیشن رولز 2025 کی منظوری، بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کو قانونی حیثیت دینے کی ایک کوشش ہے تاکہ جبری گمشدگیوں اور ریاستی جبر کے خلاف ابھری تحریک کو ختم کیا جا سکے اور جبری گمشدگان کے لواحقین کی آواز کو دبایا جا سکے۔ جبری گمشدہ افراد کو مشتبہ قرار دینا اور انہیں عدالتوں میں پیش کرنے کے بجائے حراستی مراکز میں تفتیش کرنا، آئینِ پاکستان میں دیے گئے انسانی حقوق سے بھی متصادم ہے۔
بلوچستان پر مسلط کردہ سرفراز بگٹی کی حکومت روزِ اول سے ہی جبری گمشدگی جیسے سنگین انسانی مسئلے کو جھٹلاتی رہی ہے اور جبری گمشدگیوں کے حوالے سے ریاستی بیانیے کی ترویج میں پیش پیش رہی ہے۔ بلوچستان میں سیاسی کارکنان کی جبری گمشدگیوں کو جھٹلانا ممکن نہیں، اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کا ادارہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان اور دیگر ادارے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو بارہا اٹھاتے رہے ہیں اور پاکستان کی مقتدر قوتوں اور حکومت کو اس سنگین انسانی مسئلے کو حل کرنے کی تلقین کرتے رہے ہیں۔
بلوچستان حکومت ایک جانب جبری گمشدگیوں کی تردید کرتی ہے اور دوسری جانب پریوینشن ڈیٹینشن اینڈ ریڈیکلائزیشن رولز کے حوالے سے فیصلہ، اس بات کا اعتراف ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں میں ریاستی ادارے ملوث ہیں۔ بلوچستان پریوینشن ڈیٹینشن اینڈ ریڈیکلائزیشن رولز کی منظوری دینا ریاستی اداروں کو سیاسی کارکنان کو جبری طور پر گمشدہ کرنے کی کھلی چھوٹ دینے کے مترادف ہے۔ جبری گمشدگیوں کو ختم کرنے کے بجائے انہیں قانونی شکل دینے سے یہ مسئلہ مزید گھمبیر ہوگا۔ جبری گمشدگیاں کسی بھی صورت میں ہوں، وہ غیر آئینی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ طاقت کے زور پر جبری گمشدگیوں کو قانونی شکل تو دی جا سکتی ہے، تاہم اس کے خلاف ابھرتی آوازوں کو دبانا ممکن نہیں۔













































