بلوچستان نوآبادیاتی طرز حکومت، ملازمین اور گرینڈ الائنس!
تحریر؛ حمّل بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
بلوچستان میں ملازمین کے مسئلے قطعاً حل نہیں ہوں گے کیونکہ بلوچستان ایک نوآبادیاتی علاقہ ہے اور اس کے مسائل کا حل صرف اور صرف انقلاب اور آزادی ہے وگرنہ ہزاروں الائنسز اور سینکڑوں مظاہرے ہونے کے باوجود بھی مسئلے کم ہونے کے بجائے بڑھتے جائیں گے۔
بلوچستان میں کئی مہینوں سے گرینڈ الائنس کے تحت سرکاری ملازمین کی تحریک کوئی اچانک پیدا ہونے والا واقعہ نہیں بلکہ دہائیوں سے جاری استحصال، معاشی ناانصافی اور نوآبادیاتی رویوں کے خلاف ایک فطری ردِ عمل ہے۔ یہ وہ آواز ہے جو طویل خاموشی، معاشی گھٹن اور ریاستی بے حسی کے بعد کھڑی ہوئی ہے۔
بلوچستان کے ملازمین کا مطالبہ نہ تو غیر آئینی ہے، نہ غیر فطری، اور نہ ہی کسی قسم کی بغاوت ہے۔ ان مظاہروں میں شریک مظلوم قوم کے بے بس ملازمین مطالبہ کر رہے ہیں کہ جب دیگر صوبوں کے ملازمین کو مساوی ڈی آر اے، مراعات اور عزت دی جا سکتی ہے تو بلوچستان کے ملازمین کیوں دوسرے درجے کے شہری بنائے گئے ہیں؟
یہ سوال دراصل ریاست کے چہرے سے نقاب نوچنے کے مترادف ہے، اور شاید اسی لیے طاقت کے نشے میں چور حکمرانوں نے اس کا جواب دلیل سے نہیں، لاٹھی، جیل اور تشدد سے دینے کا تہیہ کر لیا ہے۔
ریاستی تشدد نوآبادیاتی ذہنیت کا تسلسل ہے۔ بلوچستان میں مظاہرین پر پولیس گردی، لاٹھی چارج، اساتذہ کی گرفتاری اور پرامن احتجاج کو کچلنا کسی جمہوری ریاست کا رویہ نہیں بلکہ یہ خالص نوآبادیاتی طرزِ حکمرانی ہے۔ نوآبادیات میں سوال کرنے والوں کو غدار، احتجاج کرنے والوں کو مجرم اور حق مانگنے والوں کو مجبوری سے کچل دیا جاتا ہے۔ جس کی سب سے بڑی مثال بلوچ یکجہتی کمیٹی ہے جس نے لوگوں کے لاپتہ اور کئی سالوں سے زندانوں میں پڑے پیاروں کے لیے جمہوری انداز میں آواز اٹھائی تو شدید ریاستی جبر کا سامنا کیا۔
اب ان اساتذہ کو جو علم، شعور اور سوال پیدا کرتے ہیں قید میں ڈالنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تنخواہیں مسئلہ نہیں بلکہ شعور پیدا ہونے کی وجہ سے ریاست خوفزدہ ہے۔ کیونکہ باشعور ملازم غلام نہیں بنتا، اور باشعور استاد نوآبادیاتی ریاست کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہوتا ہے۔
تاہم بلوچستان میں ملازمین بجائے غلامی اور قومی محکومی کو سمجھ کر اس کے خلاف ایک نسل تیار کریں وہ وقتی تنخواہوں کے پیچھے ریاستی ظلم کا شکار ہو رہے ہیں۔
بلوچستان جو کہ وسائل سے مالا مال ایک عظیم خطہ ہے مگر اس کے ملازمین بھیک مانگنے پر مجبور ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ کیسا معاشی نظام ہے جہاں زمین سونا اگلتی ہو مگر اس پر بسنے والے فاقہ سے مر رہے ہوں؟ یاد رہے یہ محض بدانتظامی نہیں بلکہ منظم معاشی استحصال ہے۔ وسائل مرکز اور اشرافیہ کھا جاتی ہے، جبکہ بلوچستان کے ملازمین کو صبر، قربانی اور حب الوطنی کے لیکچر دیے جاتے ہیں۔
جب حب الوطنی صرف محکوم کے لیے فرض ہو اور مراعات صرف طاقتور کے لیے، تو اسے ریاست نہیں، استحصالی ڈھانچہ کہا جا سکتا ہے۔ مساوی ڈی آر اے کا مطالبہ دراصل آئینی مساوات کا مطالبہ ہے۔ اس کا انکار صاف بتاتا ہے کہ بلوچستان کو آج بھی ایک مکمل صوبہ نہیں بلکہ ایک انتظامی کالونی (colony) سمجھا جاتا ہے۔
یہاں فیصلے مشاورت سے نہیں بلکہ طاقت سے ہوتے ہیں۔ یہاں لاٹھی دلیل ہے، اور جیل مکالمہ!!! تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاستیں سوال کو کچلتی ہیں، تو سوال مرتا نہیں بلکہ مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔ جب احتجاج کو جرم بنایا جاتا ہے تو جرم نہیں بڑھتا، بغاوت جنم لیتی ہے۔ اور جب معاشی ناانصافی مستقل پالیسی بن جائے تو انقلاب محض نعرہ نہیں رہتا، ناگزیر حقیقت بن جاتا ہے۔
بلوچستان کے ملازمین کی تحریک کسی فرد، کسی حکومت یا کسی مخصوص بجٹ کے خلاف نہیں بلکہ یہ ایک نوآبادیاتی نظام کے خلاف اجتماعی چیخ ہے۔ بات سمجھنے کی ہے ورنہ بلوچ ایک محکوم قوم ہے اور محکوموں کا حال ایسا ہی ہونا ہے۔
اگر ریاست نے اب بھی لاٹھی کو عقل پر، جیل کو مکالمے پر، اور تشدد کو انصاف پر ترجیح دی، تو تاریخ اسے ایک ظالم، ناکام اور جابر ریاست کے طور پر یاد رکھے گی کیونکہ حقوق مانگنے والے مجرم نہیں ہوتے، اور لاٹھی سے دبائی گئی آوازیں کبھی خاموش نہیں ہوتیں۔
بلوچستان گرینڈ الائنس ممبران کو چاہیے کہ متحرک ہوں اور بلوچ پشتون اتحاد کے ساتھ اس بات کو واضح کریں کہ الائنس کا مسئلہ صرف الائنس کا نہیں بلکہ ایک منظم نوآبادیاتی پالیسی ہے جس کے تحت بلوچستان میں بسنے والے لوگوں کو کمتر اور حقیر سمجھ کر اس طرح کے رویے روا رکھے جاتے ہیں۔
یاد رہے کہ محکوم قوموں میں مسائل صرف ملازمین کا نہیں بلکہ ہر عام و خاص کے ہوتے ہیں جنہیں فرداً فرداً سمجھ کر اس بڑے مسئلے یعنی نوآبادیاتی نظام سے منہ نہیں پھیرا جا سکتا۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بلوچستان ایک نوآبادیاتی علاقہ ہے اور اس کے مسائل کا حل صرف اور صرف انقلاب اور آزادی ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































