بلوچستان میں مربوط حملے جاری: مختلف علاقوں میں ڈی ایس پی اور ایس ایچ او قتل، پولیس انسپکٹر اغوا

267

مسلح افراد نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پولیس تھانوں پر قبضہ کرکے سرکاری اسلحہ ضبط کر لیا، جبکہ متعدد اہلکاروں کو اغوا کر لیا گیا ہے۔

دارالحکومت کوئٹہ میں حکومتی دعوؤں کے باوجود حالات کشیدہ ہیں، بلوچ لبریشن آرمی کے آپریشن ہیروف کے تحت کوئٹہ کے حساس علاقے ریڈ زون میں ہونے والے خودکش حملے میں متعدد پولیس اہلکار ہلاک ہوئے، جن میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس فیصل خان یوسفزئی بھی شامل ہیں۔

کوئٹہ میں سریاب روڈ بھوسہ منڈی تھانے سمیت پولیس کو مختلف مقامات پر حملوں کا سامنا رہا، سریاب تھانے پر حملے میں ایس ایچ او محمود بازئی ہلاک ہو گئے۔

کوئٹہ بھوسہ منڈی تھانے پر قبضے کے بعد حملہ آوروں نے سرکاری اسلحہ ضبط کرکے تھانے کو نذرِ آتش کر دیا۔

ادھر ضلع کچھی کے علاقے ڈھاڈر میں مسلح افراد نے پولیس ٹیم کو گھیر کر پولیس انسپکٹر سمیت چار اہلکاروں کو اغوا کر لیا اور پولیس موبائل کو آگ لگا دی۔

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں بھی پولیس تھانے پر بلوچ لبریشن آرمی نے کنٹرول قائم کر لیا، جہاں مسلح افراد نے سرکاری گاڑیوں کو نذرِ آتش کرتے ہوئے متعدد قیدی رہا کر دیے۔

اسی طرح کیچ کے تحصیل تمپ کے علاقے رودبن پھل آباد میں بلوچ لبریشن آرمی کے ارکان نے پاکستانی فوج کے دو کیمپوں پر بارودی مواد سے بھری گاڑیوں کے ذریعے دھماکہ خیز حملے کیے۔

اس دوران پولیس تھانے پر قبضہ، گریڈ اسٹیشن اور قریبی فورسز پوسٹوں پر حملے، دو پوسٹوں پر کنٹرول اور ملٹری انٹیلی جنس آفس پر حملے کی بھی اطلاعات ہیں۔

علاقے سے موصولہ آخری اطلاعات کے مطابق جھڑپوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے اور وقفے وقفے سے فائرنگ و دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

مزید برآں ضلع نوشکی میں بلوچ مسلح جنگجوؤں نے کاؤنٹر ٹیررزم ڈپارٹمنٹ کے دفتر پر حملہ کرکے وہاں موجود تمام اہلکاروں کو یرغمال بنالیا ہے اور سرکاری اسلحہ اور ریکارڈ تحویل میں لے لیا۔

بلوچ لبریشن آرمی نے اپنے ایک مختصر بیان میں آپریشن ہیروف کے دوسرے مرحلے کے تحت بلوچستان کے طویل و عرض میں چودہ علاقوں میں بیک وقت حملوں کا اعلان کیا ہے۔

تنظیم کے ترجمان جیئند بلوچ کے مطابق دس گھنٹے سے جاری جھڑپوں میں اب تک 84 پاکستانی فورسز اور پولیس اہلکار ہلاک، جبکہ 18 کو تحویل میں لیا گیا ہے، تنظیم نے اس دوران اپنے سات ساتھیوں کی مارے جانے کی بھی تصدیق کی ہے۔