ایران میں دو ہفتے سے جاری مظاہروں میں ہلاک افراد کی تعداد 192 ہوگئی، انسانی حقوق تنظیم کا دعویٰ

35

ایران میں احتجاجی مظاہروں کا 14 واں روز جاری ہے، ایرانی انسانی حقوق تنظیم کے دعوے کے مطابق دو ہفتے سے جاری مظاہروں میں 192 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ناروے سے تعلق رکھنے والی ایرانی انسانی حقوق تنظیم کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔

ایرانی انسانی حقوق تنظیم کا کہنا ہےکہ انٹرنیٹ کی بندش سے ہلاکتوں کی درست تعداد معلوم نہیں ہوپا رہی۔

دوسری جانب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کا دعویٰ ہےکہ ٹرمپ انتظامیہ ایران میں غیر فوجی اہداف پر حملوں سے متعلق سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ کو ایران پر فوجی حملوں کے آپشنز پر بریفنگ دی گئی ہے، امریکی صدر نے ایران پر حملوں کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا۔

ٹرمپ نے حال ہی میں ایرانی قیادت کو خبردار کیا تھا کہ اگر مظاہرین کو قتل کیا گیا تو وہ ان پر سخت حملہ کریں گے۔ صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران ماضی کے مقابلے میں آج کہیں زیادہ آزادی کا طالب ہے، امریکا مدد کے لیے تیار ہے۔

ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا اور اسرائیل کو ایران میں فسادات کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئےکہا ہےکہ امریکا اور اسرائیل ایران میں افراتفری اور بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں، ایرانی عوام فسادیوں اور دہشت گردوں سے خود کو دور رکھیں، فسادیوں کو انتشار پھیلانے کی اجازت نہ دیں۔