اورناچ، منگچر: مسلح افراد کا داخلہ، آر سی ڈی شاہراہ پر کنٹرول، فوجی کیمپ پر قبضے کی اطلاعات

328

بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے اورناچ اور ضلع مستونگ کے علاقے منگچر میں بڑی تعداد میں مسلح افراد کے داخل ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس وقت آر سی ڈی شاہراہ مسلح افراد کے کنٹرول میں بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث مرکزی شاہراہ پر ٹریفک مکمل طور پر معطل ہو کر رہ گئی ہے۔

مزید اطلاعات کے مطابق بارہ لک کے فوجی کیمپ پر قبضہ کیے جانے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران متعدد فوجی اہلکاروں کو زندہ گرفتار کر لیا گیا ہے، تاہم سرکاری سطح پر تاحال ان اطلاعات کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔

ادھر منگچر میں مسلح افراد کی شہر میں آمد کے بعد گشت جاری ہے، جبکہ مختلف علاقوں میں فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں، جس کے باعث شہریوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ بلوچستان میں بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے جاری آپریشن “ہیروف 2” کے تحت حملوں کا سلسلہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں خودکش حملوں، مسلح جھڑپوں اور سرکاری تنصیبات پر قبضے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

اس سے قبل کوئٹہ میں گورنر ہاؤس کے قریب خودکش حملہ، ریڈ زون میں شدید فائرنگ اور دھماکوں کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں، جبکہ نوشکی میں ڈپٹی کمشنر کو بلوچ لبریشن آرمی کی تحویل میں لیے جانے کی ویڈیو بھی جاری کی جا چکی ہے۔

اسی طرح کوئٹہ اور نوشکی میں پولیس تھانوں، سرکاری دفاتر اور ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملوں اور جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جبکہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہیلی کاپٹروں کی پروازیں، حساس علاقوں کی بندش اور ریلوے سروس کی معطلی کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔