کراچی کے قدیم علاقے لیاری میں گزشتہ روز فائرنگ سے نوجوان بابر ولد دلدار بلوچ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔
تفصیلات کے مطابق بابر بلوچ 13 دسمبر کو دورانِ علاج دم توڑ گیا۔ واقعے کے خلاف مقتول کے اہلِ خانہ اور علاقہ مکینوں نے لیاری سے کراچی پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی، جس میں درجنوں افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے علاقے میں بڑھتی بدامنی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ بابر بلوچ کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا۔ اس کے والد دلدار بلوچ پیشے کے لحاظ سے الیکٹریشن ہیں، جو محنت مزدوری کر کے اپنے خاندان کی کفالت کرتے تھے۔ لواحقین کے مطابق بدنامِ زمانہ گینگ سے تعلق رکھنے والے عدنان نے دلدار بلوچ کو بجلی کے کام کے بہانے بلا کر قید کیا اور بدترین تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے باعث ان کی حالت غیر ہو گئی۔ دلدار بلوچ کو تشدد کے بعد سول اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ دو روز تک زیرِ علاج رہے۔
اہلِ خانہ کے مطابق 11 دسمبر کو بابر بلوچ اپنے والد پر ہونے والے تشدد کی وجہ معلوم کرنے کے لیے عدنان کے پاس گیا، جہاں اسے فائرنگ کا نشانہ بنا دیا گیا۔ بابر بلوچ دو دن تک اسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہا، تاہم 13 دسمبر کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا۔
احتجاج میں شریک افراد نے الزام عائد کیا کہ لیاری کو ایک بار پھر گینگ عناصر کے رحم و کرم پر چھوڑا جا رہا ہے اور ایک منظم پالیسی کے تحت علاقے کا امن تباہ کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ شہریوں کو خوفزدہ کر کے خاموش کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو کسی صورت قبول نہیں۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ بابر بلوچ کے قتل میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور لیاری میں امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنایا جائے۔
لواحقین نے دی بلوچستان پوسٹ کو بتایا کہ بابر کے والد دلدار ایک الیکٹریشن ہیں۔ انہیں عدنان نے اپنے گھر الیکٹریشن کا کام کرنے کے لیے بلایا۔ دلدار کے کچھ دیر سے پہنچنے پر عدنان جو عزیر بلوچ کے رائٹ ہینڈ کے طور پر جانے جاتے ہیں غصے میں آ گئے اور دلدار کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ جب دلدار کی بیٹی نے اپنے باپ پر ہونے والی پٹائی پر سوال کیا تو عدنان مزید مشتعل ہو گیا۔ بات بڑھتی گئی، اور اسی دوران اس نے اسلحہ نکال کر فائرنگ شروع کر دی۔ بابر گولیوں کی زد میں آ کر موقع پر ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
لواحقین نے بتایا کہ عدنان، برائٹ اسکول کے مالک اور بلوچ اتحاد تحریک کے چیئرمین جناب عابد بروہی کے بھائی ہیں۔ لیاری میں ٹائی پینٹ پہن کر موجود یہ گینگ آج بھی اسی طرح زندہ ہے صرف اس کی زبان، حلیہ اور دعوے بدل گئے ہیں۔ مزدوری کے حق پر سوال اٹھانے والے ایک باپ کو مارا گیا، اور اس کے بیٹے کو قتل کر دیا گیا۔ اور حسبِ روایت، یہ سب پولیس کی سرپرستی میں ہوا۔
علاقہ مکینوں کے مطابق گینگ وار اور کراچی پولیس کا تعلق نیا نہیں۔ پولیس آج بھی دو رُخا کردار ادا کر رہی ہے، ایک طرف عدنان کو برائے نام حراست میں رکھا گیا ہے، اور دوسری طرف مقتول بابر کے خاندان کو دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ ایف آئی آر واپس لے لیں اور معاملہ رفع دفع کر دیں۔
دریں اثنا بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی زون نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ لیاری میں ریاستی سرپرستی میں ڈیتھ اسکواڈ کی غنڈہ گردی عروج پر قائم ہیں جہاں روزانہ کی بنیاد پر بھتہ خوری ، معمولی مسئلے کی بنیاد پر قتل غارت ، بلوچ عوام کو بلاجواز تنگ کرنا ، نشہ جیسے سماجی برائیوں کو پولیس کے ذریعے فروغ سمیت دیگر جرائم شامل ہیں ۔
مزید کہاکہ انہیں منظم پالیسیوں کے تحت ایک بلوچ نوجوان بابر کو ریاستی پرستی میں ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں نے قتل کردیا ۔
مزید کہا گیا کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ لیاری میں اس طرح کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں، جہاں ریاستی سرپرستی یافتہ ڈیتھ اسکواڈز دن دہاڑے بلوچ نوجوانوں کو بے دردی سے قتل کر دیتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ قاتل اگر گرفتار بھی ہو جائیں تو انصاف کا عمل ادھورا ہی رہتا ہے۔یہ واقعہ محض قانون کی ناکامی نہیں بلکہ انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک لیاری کے غریب اور بے گناہ لوگ اس ظلم کا نشانہ بنتے رہیں گے؟
متاثریں نے دی بلوچستان پوسٹ سے کہاکہ پولیس بااثر شخص کی پشت پناہی میں انہیں ہراساں کررہی ہے ۔ انہوں نے حکومت سے انصاف کا مطالبہ کیا ۔



















































