امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وسطی شام میں داعش کے ایک جنگجو کے حملے میں دو امریکی فوجیوں اور ایک شہری مترجم کی ہلاکت کے بعد امریکہ بھرپور جوابی کارروائی کرے گا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سنیچر کو وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم اس حملے کا بدلہ لیں گے۔‘
بعد ازاں انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ شام کے صدر احمد الشراع اس حملے پر ’انتہائی غصے اور شدید اضطراب‘ میں ہیں۔
قبل ازیں امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا تھا کہ سنیچر کو وسطی شام میں داعش کے حملے میں دو امریکی فوجی اہلکار اور ایک امریکی شہری ہلاک جبکہ تین دیگر افراد زخمی ہو گئے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ حملہ ایک برس قبل شامی صدر بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد پہلا واقعہ ہے جس میں جانی نقصان ہوا ہے۔
سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’متاثرہ خاندانوں کے احترام اور محکمہ دفاع کی پالیسی کے مطابق فوجی اہلکاروں کی شناخت اس وقت تک ظاہر نہیں کی جائے گی جب تک ان کے قریبی رشتہ داروں کو 24 گھنٹوں کے اندر اطلاع نہ دے دی جائے۔‘
شام کے سرکاری میڈیا اور ایک جنگی مبصر کے مطابق سنیچر کو امریکی فوجیوں کے ایک تاریخی مرکزی شہر کے دورے کے دوران شامی اور امریکی افواج پر فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہو گئے۔
سرکاری خبر رساں ادارے سانا کے مطابق یہ فائرنگ پالمیرا کے قریب ہوئی، جہاں شام کی سکیورٹی فورسز کے دو اہلکار اور متعدد امریکی فوجی زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے عراق اور اردن کی سرحد کے قریب واقع التنف فوجی اڈے منتقل کیا گیا۔
سانا نے یہ بھی بتایا کہ حملہ آور کو ہلاک کر دیا گیا ہے، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
ایک امریکی دفاعی اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ وہ ان اطلاعات سے آگاہ ہیں، لیکن فوری طور پر مزید معلومات فراہم نہیں کی جاسکتیں۔
برطانیہ میں قائم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق کم سے کم تین شامی سکیورٹی اہلکار اور کئی امریکی شہری زخمی ہوئے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ حملہ آور شامی سکیورٹی فورس کا رکن تھا۔
داعش کے خلاف جاری بین الاقوامی اتحاد کے تحت امریکہ کے سینکڑوں فوجی مشرقی شام میں تعینات ہیں۔
گذشتہ ماہ شام نے بھی داعش کے خلاف عالمی اتحاد میں شمولیت اختیار کی۔ بشار الاسد کے دور حکومت میں امریکہ اور شام کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع تھے، تاہم پانچ دہائیوں پر محیط الاسد خاندان کی حکمرانی کے خاتمے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔
عبوری صدر احمد الشرع نے گذشتہ ماہ واشنگٹن کا تاریخی دورہ کیا، جہاں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات اور بات چیت کی تھی۔
داعش کو 2019 میں شام میں شکست دی جا چکی ہے، لیکن تنظیم کے خفیہ نیٹ ورک اب بھی ملک میں مہلک حملے کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق، داعش کے اب بھی شام اور عراق میں پانچ سے سات ہزار جنگجو موجود ہیں۔
امریکی فوجی، جو داعش کے خلاف وسیع مہم کے تحت دیگر فورسز کی تربیت کے لیے شام کے مختلف علاقوں میں بشمول وسطی صوبے حمص میں واقع التنف اڈے کے موجود ہیں، ماضی میں بھی حملوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔

















































