خون، خاموشی اور سوال
تحریر: ماہ زیب شاہ
دی بلوچستان پوسٹ
ہمارے معاشرے میں انسانیت، محبت، دکھ اور درد سب ختم ہو چکے ہیں۔ دور دور تک انسانیت نظر نہیں آتی، کیونکہ ہم ایک جنگ زدہ علاقے میں رہتے ہیں، جہاں ہر طرف لاشیں اٹھائی جاتی ہیں۔ کبھی مسخ شدہ لاشیں، کبھی اپنوں کے ہاتھوں، اور کبھی ریاست کی جانب سے دی جاتی ہیں۔ ہر وقت ہمارا معاشرہ دکھ، درد اور غم میں ڈوبا رہتا ہے۔
چند دن پہلے ایک واقعہ رونما ہوا، جہاں ایک ہی گھر کے تین بھائیوں کو بندوق کا نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب ایک اور واقعہ ہے، جس پر کیا لکھوں؟ میرا ہاتھ میرا ساتھ نہیں دیتا۔ میں کیا لکھوں؟ کیا ہمارے لکھنے سے ہمارے مسائل حل ہوں گے؟ امید ہے، اور یہ دنیا امید پر ہی قائم ہے۔
وہی میرا دیارِ وطن، جہاں کبھی سکون، پیار، محبت اور بھائی چارہ ہوا کرتا تھا، اب باقی نہیں رہا۔ اب گلی، کوچے اور گھر سب اپنے پیاروں کے غم میں مبتلا ہیں۔ کوئی بدلہ لینے کے لیے بے چین ہے، تو کوئی خیر کے لیے پریشان۔ جہاں مسئلہ بات چیت سے حل ہو سکتا ہے، وہاں بندوق لے کر آنا سمجھ سے باہر ہے۔
اس سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اب ہم میں برداشت، صبر اور حوصلہ باقی نہیں رہا۔ اگر ہم دیکھیں تو ہم ایک ایسے علاقے سے تعلق رکھتے ہیں جو شاعروں کے شاعر گل خان نصیر کی دھرتی ہے، جو کبھی امن کا گہوارہ ہوا کرتی تھی۔ آج وہی لوگ ایک دوسرے کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔
ہمیں اپنے اُن بھائیوں کی قربانیوں کو یاد کرنا چاہیے جنہوں نے اپنی ذاتی خواہشات، اپنے گھر، اپنے بچے چھوڑ کر ہماری آزادی کی جنگ لڑی۔ اور آج ہم خود کو دیکھیں کہ کیا ہم اپنا حق ادا کر رہے ہیں؟ یہاں ہمیں ایک دوسرے کو مارنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
اے خدا، تو مہربان ہے، تو طاقت والا ہے۔ میرے دیس میں ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ کیا ہمیں زندگی گزارنے کا حق نہیں؟ کیا ہم ہر وقت قبائلی جنگوں میں اپنے پیاروں کو کھوتے رہیں گے؟ اے میرے پروردگار، مہربان بن۔ نوشکی کو پیار اور محبت والا دیس بنا، جہاں سکون ہو، جہاں امن کی خوشبو ہو، اور نفرت دور دور تک نہ ہو۔
ہماری ریاست اب مفلوج ہو چکی ہے، جہاں قانون کا وجود دور دور تک نظر نہیں آتا۔ ہمارے قبائلی میر اور سردار اب ریاستی بن چکے ہیں۔ اپنے علاقوں میں اس طرح کے واقعات دیکھ کر خاموش رہنا، اور چھوٹے موٹے مسائل بھی حل نہ کر پانا، اس بات کا ثبوت ہے کہ میرے دیس میں امن نہ ہونے میں سب کا ہاتھ ہے۔
ریاست کو ماں ہونا چاہیے، مگر ہم اس کو قبول نہیں کر سکتے۔ ماں وہ ہوتی ہے جو اپنے بچوں کو تحفظ دے، نہ کہ اپنے ہی گھر کو لاشوں سے بھر دے۔ کیا کوئی ماں یہ برداشت کر سکتی ہے کہ اس کے گھر میں روز لاشیں گریں اور وہ خاموش رہے؟
اور یہ ریاست کہتی ہے کہ بلوچ کا نوجوان مسلح تنظیموں کی طرف کیوں جاتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ جب طاقت صرف بندوق کے ہاتھ میں ہو، جب طاقتور چاہے جہاں چاہے لاشیں مسخ کرے، تو پھر کیا کریں؟ خاموش رہیں؟ سوال اور حقوق کی باتیں نہ کریں؟ ہرگز نہیں، اس طرح نہیں ہو سکتا۔
یہاں کوئی نظام نہیں، کوئی انسانیت نہیں۔ یہاں جبر ہی جبر ہے۔ پھر یہی رویہ علم کو خطرہ اور سوال کو بغاوت بنا دیتا ہے۔ جب انصاف کے تمام دروازے بند کر دیے جائیں، جہاں بات کرنے والا دشمن اور سوچنے والا مجرم ٹھہرے، تو پھر وہاں بغاوت ہی بغاوت پیدا ہوتی ہے۔
کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جو نظام گولی کے زور پر خاموشی مسلط کرتے ہیں، وہ خاموشی سے نہیں گرتے، بلکہ ان کے خلاف انقلاب کھڑا ہوتا ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































