بلوچستان و عمان سے 5 افراد جبری لاپتہ، طلبہ، ڈاکٹر اور وکیل شامل

250

بلوچستان، سندھ اور خلیجی ملک عمان سے متعدد بلوچوں کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان افراد میں طلبہ، ڈاکٹر اور وکیل شامل ہیں۔

دو روز قبل، 11 دسمبر کو خلیجی ملک عمان میں مقیم اور پیشے کے اعتبار سے وکیل محمد حسن ایڈووکیٹ ولد دوشمبے کو وہاں کے خفیہ اداروں نے حراست میں لیا۔

بی وائی سی کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، وکیل محمد حسن کو بعد ازاں پاکستان منتقل کیا گیا ہے، تاہم تاحال ان کے حوالے سے کوئی معلومات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔

ادھر کوئٹہ کے ایک رہائشی کے مطابق 9 دسمبر کو ریاستی اداروں کی جانب سے ان کے بھائی ڈاکٹر راشد علی کو فون کر کے طلب کیا گیا، جب ڈاکٹر راشد علی متعلقہ مقام پر پہنچے تو انہیں تحویل میں لے لیا گیا۔

ڈاکٹر راشد علی کے اہل خانہ کے مطابق تحویل میں لیے جانے کے بعد سے ان کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم نہیں کی جارہی ہیں۔

دوسری جانب سندھ کے علاقے ٹنڈو جام میں واقع سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی کے ہاسٹل سے لاپتہ ہونے والے دو طلبہ، شعیب اور آفتاب تاحال منظرِ عام پر نہیں آ سکے ہیں جس کے باعث ان کے اہل خانہ شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔

لواحقین کے مطابق، اوتھل یونیورسٹی وڈھ کیمپس سے تعلق رکھنے والے یہ دونوں طلبہ اپنے دیگر ڈیپارٹمنٹ ساتھیوں کے ہمراہ تھیسس پریکٹیکلز کے لیے سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی کے شعبہ زراعت کا معائنہ کرنے ٹنڈو جام پہنچے تھے، جہاں یکم ستمبر 2025 کو یونیورسٹی ہاسٹل سے سادہ کپڑوں میں ملبوس سی ٹی ڈی اہلکاروں نے ان نوجوانوں کو ان کے دو دیگر ساتھیوں سمیت تحویل میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

اہلخانہ کے مطابق چند روز بعد ان کے دیگر دو ساتھی، عمران ولد سیف اللہ سکنہ وڈھ اور مہر اللہ ولد محمد قاسم سکنہ وڈھ 4 ستمبر کو بازیاب ہو گئے تاہم شعیب ولد عبدالحئی اور آفتاب ولد غلام مصطفیٰ تین ماہ اور بارہ دن گزرنے کے باوجود تاحال لاپتہ ہیں۔

ادھر بلوچستان کے ضلع کیچ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پاکستانی فورسز نے دشت بلنگور میں گھروں پر دھاوا بولتے ہوئے وہاں موجود افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا اور متعدد افراد کو تحویل میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

بلنگور سے جبری لاپتہ ہونے والے افراد کے نام تاحال سامنے نہیں آ سکے ہیں۔

مزید برآں تربت کے زور بازار سے پاکستانی خفیہ اداروں نے ایک نوجوان جلال ولد اسحاق کو گیارہ دسمبر کو جبری طور پر لاپتہ کردیا۔

اہلخانہ کے مطابق جلال کو رات کو اس وقت جبری لاپتہ کیا گیا جب وہ میڈیکل اسٹور پر اپنی ڈیوٹی پر تھا۔

مذکورہ واقعات کے حوالے سے حکام نے تاحال کوئی موقف پیش نہیں کیا ہے۔ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے واقعات گذشتہ دو دہائیوں سے تسلسل کیساتھ جاری ہے تاہم حالیہ مہینوں میں ان میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنان کے مطابق دور دراز علاقوں میں مواصلاتی بندش اور خوف سمیت دیگر وجوہات کے باعث کئی کیسز رپورٹ بھی نہیں ہوپاتے ہیں۔