بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما سمی دین بلوچ نے کیچ کے علاقے ہوشاب میں پاکستانی فورسز کے مارٹر حملے میں بچیوں کے زخمی اور جانبحق ہونے کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ریاستی جبر کے مسلسل سلسلے کا حصہ قرار دیا ہے۔
بیان کے مطابق ہوشاب میں فورسز کی جانب سے مقامی آبادی پر مارٹر فائر کیے گئے، جس کے نتیجے میں پانچ بچیاں شدید زخمی ہوئیں، جب کہ ایک بچی نازک حالت کے باعث زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔
سمی دین بلوچ نے اسے بلوچ قوم کے خلاف جاری منظم ریاستی تشدد کا تسلسل قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں، مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی، گھروں پر چھاپے اور عام آبادیوں پر شیلنگ معمول بن چکے ہیں، یہاں تک کہ کمسن بچے بھی محفوظ نہیں رہے، ان کے مطابق ریاست بلوچستان میں طاقت کے ذریعے بلوچ عوام کو ان کی اپنی سرزمین پر نشانہ بنا رہی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اس سے قبل بھی فورسز کی اسی نوعیت کی کارروائیوں میں بچے جانبحق ہوئے، مقدمات درج ہوئے اور جے آئی ٹیز قائم ہوئیں مگر کسی ذمہ دار کو سزا نہ مل سکی، انہوں نے کہا کہ بلوچ کا خون ہمیشہ سستا سمجھا گیا ہے ریاست کبھی جوابدہ نہیں بنی۔
سمی دین بلوچ نے مزید کہا کہ نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشیں پھینک کر انہیں دہشتگرد قرار دینا اور مرد و خواتین کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنا کر اسے کاؤنٹر ٹیررزم کا نام دینا ریاستی بیانیے کا حصہ ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ جب معصوم بچیاں بھی اس جارحیت کی زد میں آرہی ہیں تو ریاست ایسی کارروائی کو کس منطق کے تحت جائز ٹھہرائے گی؟
انہوں نے عالمی برادری کی خاموشی پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس خاموشی نے ریاستی تشدد کو مزید طاقت دی ہے۔


















































