ہوشاب آبادی پر حملہ ریاستی تشدد کے مسلسل سلسلے کا تسلسل ہے — بی وائی سی

10

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 29 نومبر 2025 کو پاکستانی فورسز نے کیچ کے علاقے ہوشاب میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا۔ مقامی ذرائع کے مطابق پاکستانی فوج نے متعدد مارٹر گولے فائر کیے جو ایک قریبی رہائشی گھر پر جا گرے۔ دھماکوں کے نتیجے میں گھر کا کچھ حصہ تباہ ہوگیا اور کئی بچے شدید زخمی ہوئے، جن میں 11 سالہ درداناگ، 12 سالہ طاہرہ، 18 سالہ آسیہ اور 13 سالہ یاسمین شامل ہیں۔

مقامی افراد کے مطابق یاسمین اور طاہرہ شدید زخمی ہوئیں، جن میں ٹانگ اور ریڑھ کی ہڈی کے فریکچر کے ساتھ مارٹر کے ٹکڑوں سے لگنے والے زخم بھی شامل ہیں۔ دونوں کو ہنگامی طبی امداد کے لیے کراچی منتقل کیا گیا، جہاں یاسمین زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئی، جبکہ دیگر زخمی بچوں کو درمیانے درجے کے زخموں کی طبی سہولت فراہم کی گئی۔

بی وائی سی نے کہا کہ رہائشی علاقے پر یہ حملہ ریاستی تشدد کے اُس وسیع اور مسلسل سلسلے کا حصہ ہے جس کی شکایات مقامی آبادی برسوں سے کرتی آئی ہے۔ شہری آبادی، خصوصاً خواتین اور بچے، اندھا دھند طاقت کے استعمال، اجتماعی سزا، گولہ باری اور دھمکیوں کا سب سے زیادہ نشانہ بنتے رہے ہیں۔ ایسے مسلسل واقعات نے خطے میں خوف، عدمِ استحکام اور شدید ذہنی صدمے میں اضافہ کیا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل اور بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں، بشمول ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ، سے اپیل کی ہے کہ وہ ان سنگین خلاف ورزیوں اور بلوچستان میں شہریوں کے خلاف جاری ناروا سلوک کا فوری نوٹس لیں۔