کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج 6014 ویں روز بھی جاری

1

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پَرسنز کا قائم احتجاجی کیمپ چیئرمین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں آج بروز ہفتہ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6014 ویں روز بھی جاری رہا۔

مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کیمپ کا دورہ کیا اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ جبری گمشدگیاں ملکی قوانین اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ ہماری طویل پُرامن جدوجہد کا مقصد یہی ہے کہ ہم پاکستان کو جبری گمشدگیوں سے پاک دیکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری تنظیم کا مطالبہ ہے کہ تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے، جن پر الزامات ہیں انہیں منظرِ عام پر لاکر قانونی چارہ جوئی کا حق دیا جائے، جبری گمشدگیوں اور ماورائے قانون قتل کے سلسلے کو مستقل طور پر روکا جائے، اور اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے انسانی وقار اور آئینی اصولوں کے مطابق قانون سازی کی جائے۔

علاوہ ازیں وی بی ایم پی کے مطابق، ڈیرہ بگٹی سے آنے والے لواحقین نے تنظیم کو شکایت کی کہ ضلع ڈیرہ بگٹی کی تحصیل سوئی کے علاقے مٹ سے سی ٹی ڈی اہلکاروں نے گزشتہ دنوں ستا دین بگٹی اور فضل دین بگٹی ولد پیرل بگٹی کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے