میرا نوعہ – کوہ دل بلوچ

19

میرا نوعہ

تحریر: کوہ دل بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

صبح کی پہلی تُند للکار
اُفق میں ڈوبتا ہوا سورج کا نوحہ
احساسِ غلامی کو طوالت نہ ملنا
ہربوئی سے یخ بستہ بہتی ہوائیں
دہکان کا ہانکتے ہوئے بیلوں کو زوردار آواز
ننگے پاؤں بچوں کا مٹی میں کھیل کود
بیواؤں کے چہروں پر لگی ہوئی داغیں
پھٹی کپڑوں میں لپٹی ہوئی لاشوں کی باقیات
ترقی کے سائے میں بھوکی پیٹ کا بے آواز شور
سمندر کنارے پیاس سے موت کو گلے لگاکر فنا ہوجانا
اورماڑہ میں بکھری ہوئی مدفون بلوچ فنوں کی داستان
صباء کے ادب سے بے تہاشا محبت کا ماندہ سفر
قاضی کا تلخ لفظوں کا چناؤ
عطا کے بہتے چشموں کی ماتم کناں
اکبر بگٹی کا منڈلاتا ہوا غرور
خیربخش کی بے رحم خاموشی
بہنوں کی روڈوں پر آہ و سسکیاں
بیٹوں کی آس میں آنکھوں کا موم بن کر بہہ جانا
سلاخوں میں سلاسل سیاست کا ہونا
پیروں کے دراڑوں میں جمی خون کی پھیکی رنگت
شاری کے مسکان میں تپاک سی درد
سمعیہ کے وار سے اُٹھتی ہوئی چنگاریاں
ماہل کی دیس میں ننگی راج
ماہکانی کے دیس بھگتی سے کھلواڑ
ریحان و اسلم پر اُٹھتی ہوئی انگلیوں کی تپش
لُمہ یاسمین کے آرزؤں پر طنز آمیز لفاظی
دشمن کے صفوں میں غیر ارادی شراکت داری
دشمن پر لگتی ہوئی سرمچاروں کی کاری ضربیں جبکہ
قلم و کتابوں پر استفادہ کرنے والوں کی سُست روی
سندھو دریا کنارے پر غلاموں کی جاگیردارنہ سوچ
ہر روز کوئلوں سے مَلتا ہوا سیاہ چہرہ
گوادر کے ناھُدا داد جان کی مایوس نگاہیں
چھابہار پر ترقی کے فروانی پر قیاس آرائیاں
جھالاوان پر سرکار و سرداروں کی کارستانیاں
ساراوان پر تھیوکریسی کا بھرمار
شال مہرستان کی جستجوؤں کا پت جھڑ ہوجانا
اپنے ہی ہم فکر ساتھیوں کا ڈیرہ بگٹی پر تانا شاہی
کمزور ہاتھوں سے مضبوط دشمن پر پتھر پھینکنا
مزاحمتی شعور کا جذبات کے نظر ہوجانا
اور سمندر کی اُٹھتی ہوئی ہر تلاتم سے غافل رہنا
یہ سب میرے دیس کی آدھی ادھوری کہانیاں ہیں.!


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔