بلوچ کی نہ سر محفوظ، نہ سریگ
تحریر: کامریڈ قاضی
دی بلوچستان پوسٹ
سامراج اور قبضہ گیری ہمیشہ جب اپنے آخری وقت تک پہنچ جاتے ہیں تو وہ اپنے ظلم کی آخری حد تک جاتے ہیں، یعنی وہ سوفٹ پاور سے نکل کر ہارڈ پاور تک جاتے ہیں، باقاعدہ ہتھیار کی زور پر اپنا نظریہ اور سامراجیت کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر یہ ہمیشہ ان کا خواب ہی رہا ہے، کیونکہ تشدد سے مزاحمت کی آگ نہیں مرتی، بلکہ مزید بھڑک جاتی ہے۔
برطانیہ، فرانس، پرتگال کی طرح آج پاکستان بھی بلوچستان میں اسی نظریے پر عمل کر رہا ہے۔ اسی پاکستان نے 1970 میں بنگلہ دیش میں ہزاروں کی تعداد میں بنگالی عورتوں کے ساتھ غیر اخلاقی، غیر انسانی سلوک کیا تھا، ان کی ریپ کی تھی، جو انسانی تاریخ کا بدترین واقعہ ہے۔ آج بلوچستان میں بھی وہی عمل دہرایا جا رہا ہے: بلوچ کی عورت کا دوپٹہ کبھی کسی سڑک کے کنارے کھینچا جاتا ہے، تو کبھی کسی دوسرے بہانے سے۔ 2006 میں ڈاکٹر شازیہ کی ریپ کسی پاکستانی جرنیل نے ہی کی تھی، وہ بلوچ تو نہیں مگر بلوچستان میں سرکاری ملازم تھی، آج تک اسے انصاف نہیں ملا۔ 2005 میں زرینہ مری لاپتہ ہوئی، جو آج تک واپس نہیں آئیں۔ کسی کو کچھ نہیں پتہ کہ وہ کہاں ہے۔ آج پاکستان اس کی وجود سے ہی انکار کر رہا ہے کہ زرینہ مری نامی عورت سرکاری ملازم رہی ہے۔ اس کے خاندان کو ایسا ہراساں اور دھمکایا گیا ہے کہ وہ بالکل خاموش ہیں۔ یہ سامراجیت کے ظلم کی نشانیاں ہیں بلوچستان میں۔
بلوچستان یونیورسٹی میں 2019 میں ایک سنگین واقعہ پیش آیا تھا کہ گرلز ہاسٹل میں گرلز واش رومز میں کیمرے لگائے گئے تاکہ ان کو بلیک میل کیا جا سکے۔ اس واقعے کے خلاف بلوچستان میں احتجاج اور مظاہرہ کیا گیا، اور میڈیا میں بھی مہم چلائی گئی۔ بعد میں حکومت نے اس کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی، مگر کچھ نہیں ہوا۔
یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو بدل کر پنجگور اور اب اوتھل میں وائس چانسلر بنادیا گیا ہے۔ اس کیس کو آج تک مکمل نظرانداز کیا گیا ہے۔
کچھ دن پہلے بولان میڈیکل کالج میں بھی ایسا واقعہ پیش آیا ہے کہ وہاں امتحان میں وائیوا کے دوران پیتھالوجی ڈپارٹمنٹ کے انچارج اسحاق نے لسبیلہ سے تعلق رکھنے والے ایک طالبہ کو جنسی ہراسا کرنے کی کوشش کی، مگر چوکیدار کی بروقت مداخلت پر وہ بچ گئی۔ اس واقعے کو سیاسی اور سماجی تنظیموں نے شدید مذمت کی ہے، اور بلوچستان محکمہ صحت نے بھی اس کی نوٹس لی ہے، مگر اس کے باوجود اس ٹیچر کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ اس کے برعکس، پرنسپل نے اس طالبہ کو دھمکی دی کہ وہ اپنا کیس واپس لے، یہ بات اس چیز کی ثبوت ہے کہ غلام کی زندگی نہیں۔
اسی طرح بلوچستان میں کئی عورتیں سرکاری ڈیتھ اسکوڈ کے ہاتھوں لاپتہ اور اغوا ہوئی ہیں۔ اس کی مثال ہمیں خضدار زہری میں آسمہ بی بی ہے، جس پر ثنا اللہ زہری کے بنائے ہوئے کتوں نے زبردستی شادی کرنے کی کوشش کی، مگر میڈیا اور عوام کے شدید احتجاج نے اس کی زندگی بچائی۔ اس طرح کئی بلوچ گمان عورتیں ہیں جو ان درندوں کے ہاتھوں ریپ ہو چکی ہیں۔
کوئٹہ میں ماہل بلوچ کو بھی ان کے گھر سے پاکستانی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے کئی دن تک لاپتہ کیا گیا، اور یہ الزام لگایا گیا کہ وہ ایک فدائی تھی، اس سے بم اور خودکش جیکٹ برآمد ہوئی۔ بعد میں اس سے زبردستی پریس کانفرنس کروائی گئی۔ اسی طرح ہوشاپ میں نورجہان نامی ایک بلوچ عورت سی ٹی ڈی کے ہاتھوں لاپتہ ہوئی، اس پر جھوٹا الزام اور مقدمہ درج کیا گیا۔ اسی طرح کئی بلوچ خواتین لاپتہ ہوئیں۔
پنجگور میں پاکستانی وحشی فوج کے اہلکاروں نے نازیہ شفیع اور اس کی والدہ کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا، پھر پنجگور میں نیم مردہ حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا، جس کے بعد وہ فوت ہو گئیں۔ بعد میں پاکستانی اداروں نے جھوٹا بیان دیا جو سچ کے برعکس ہے۔ ملک ناز اور کئی دوسرے بہادر بلوچ عورتوں کو ڈیتھ اسکواڈ نے شہید کیا ہے، جو میڈیا اور تحریری شکل میں موجود ہیں۔
کوئٹہ سے لاپتہ ہونے والی ماجبین بلوچ کو کئی ماہ گزر چکے ہیں، مگر آج تک اس کی کوئی خبر نہیں۔ وہ اپنے بھائی کے ساتھ لاپتہ ہوئی تھیں، مگر بھائی کئی مہینوں تک ریاستی عقوبت خانوں میں رہنے کے بعد بازیاب ہوا، مگر ماجبین آج تک ریاستی ٹارچر سیلوں میں بند ہیں۔ نا جانے اس کے ساتھ ریاست کے خونخوار کیا کر چکے ہوں گے۔ مگر آج ایک اور بلوچ بیٹی نسرینہ بلوچ حب میں پاکستانی ایجنسیوں کے ہاتھوں لاپتہ ہوئی ہے۔ نسرینہ بلوچ اور ماجبین بلوچ کے لیے آواز اٹھائیں، نہ تو کل ریاست زرینہ مری کی طرح ان کو بھی غارو گم کر دے۔ اس واقعے کے خلاف بلوچ قوم کو احتجاج کرنا چاہیے، اور اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس پر نوٹس لینا چاہیے تاکہ وہ جلدی بازیاب ہو سکیں۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































