ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد، بشمول محمد آصف اور رشید بلوچ، کے بارے میں ان کے خاندانوں کو معلومات فراہم کریں اور جبری گمشدگی کے سلسلے کو ختم کریں۔
تنظیم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ محمد آصف اور ان کے کزن رشید بلوچ کو 31 اگست 2018 کو اپنے دوستوں کے ہمراہ ایک پکنک پوائنٹ سے اغوا کیا گیا تھا۔ دونوں نوجوانوں کے لواحقین گزشتہ سات برسوں سے انصاف اور ان کی بازیابی کے لیے عدالتوں اور متعلقہ اداروں سے رجوع کر رہے ہیں۔
ایمنسٹی کے مطابق، 2023 میں جبری لاپتہ افراد کے انکوائری کمیشن نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ آصف اور رشید کسی بھی حکومتی ادارے کی تحویل میں نہیں پائے گئے۔ اس کے باوجود دونوں کی گمشدگی برقرار ہے اور ان کے اہل خانہ اب بھی ان کی واپسی کے منتظر ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان میں جبری گمشدگی ایک سنگین انسانی حقوق کا مسئلہ ہے اور حکام کو چاہیے کہ وہ تمام لاپتہ افراد کی موجودگی اور صورتحال کے بارے میں شفاف معلومات فراہم کریں تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل سکے۔