یمن: حوثیوں کے وزیراعظم کی کابینہ ارکان سمیت اسرائیلی حملے میں موت

87

یمن میں حوثی سپریم پولیٹیکل کونسل کے سربراہ مہدی المشاط نے ہفتے کو تصدیق کی ہے کہ دارالحکومت صنعا پر ایک اسرائیلی حملے میں ان کے وزیراعظم احمد غالب الرحوی اور کئی دیگر وزرا جان سے چلے گئے۔

یہ پہلا ایسا حملہ ہے جس میں اعلیٰ حکام مارے گئے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے کہا ہے کہ مہدی المشاط نے بتایا کہ جمعرات کو ہونے والے حملے میں دیگر کئی افراد زخمی بھی ہوئے تاہم انہوں نے تفصیلات نہیں بتائیں۔

ان کے بیان میں یہ بھی واضح نہیں کہ آیا حوثی وزیر دفاع بھی جان سے جانے والوں میں شامل ہیں یا نہیں۔

احمد غالب الرحوی کو ایک سال قبل یمن کا وزیراعظم مقرر کیا گیا، لیکن حکومت کے حقیقی سربراہ ان کے نائب محمد مفتاح ہیں، جنہیں ہفتے کو وزیرِاعظم کے فرائض سنبھالنے کے لیے نامزد کر دیا گیا۔

الرحوی کو زیادہ تر علامتی حیثیت کا حامل سمجھا جاتا تھا اور وہ حوثی قیادت کے قریبی حلقے کا حصہ نہیں تھے۔

اکتوبر 2023 میں اسرائیل کے غزہ پر حملوں کے آغاز سے یمنی حوثی بحیرہ احمر میں جہازوں پر حملے کر رہے ہیں، جنہیں وہ فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے اقدامات قرار دیتے ہیں۔

روئٹرز کے مطابق حملے کے روز اسرائیلی سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ اہداف وہ مختلف مقامات تھے جہاں بڑی تعداد میں اعلیٰ حوثی حکام جمع ہوئے تاکہ رہنما عبدالملک الحوثی کی ریکارڈ شدہ تقریر ٹی وی پر دیکھ سکیں۔

جمعے کو (حملے کے اگلے دن) اسرائیل نے کہا کہ فضائی حملے کا ہدف ایران کے حمایت یافتہ گروپ کے چیف آف سٹاف، وزیر دفاع اور دیگر اعلیٰ حکام تھے اور وہ نتائج کی تصدیق کر رہا ہے۔

الرحوی سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کے اتحادی تھے جنہیں حوثیوں نے 2014 کے آخر میں صنعا سے بے دخل کر دیا، جس سے ایک دہائی طویل خانہ جنگی شروع ہو گئی، تاہم بعد میں وہ گروپ کے ساتھ شامل ہو گئے۔

حوثی اکثر اسرائیل کی طرف میزائل بھی داغتے رہے ہیں جن میں سے زیادہ تر کو روک لیا گیا ہے۔ اسرائیل نے بھی حوثیوں کے زیر انتظام یمنی علاقوں پر حملے کیے، جن میں اہم الحدیدہ بندرگاہ بھی شامل ہے۔

حوثیوں کے زیر انتظام نیوز خبر رساں ادارے سبا نے وزیر دفاع محمد العاطفی کا ایک بیان جاری کیا، جو وزیراعظم کی موت کی تصدیق کے فوراً بعد جاری ہوا اور اس میں انہیں یہ کہتے ہوئے نقل کیا گیا کہ تنظیم اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

بیان میں جمعرات کے فضائی حملے کا ذکر نہیں کیا گیا اور یہ واضح نہیں کہ یہ حملے سے پہلے یا بعد میں دیا گیا۔

عاطفی حوثیوں کے میزائل بریگیڈ گروپ کی قیادت کرتے ہیں اور انہیں نمایاں میزائل ماہر سمجھا جاتا ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاتز نے ہفتے کو کہا کہ یہ حملہ ’حوثیوں پر کاری ضرب اور یہ محض آغاز ہے۔‘

ذرائع نے روئٹرز کو تصدیق کی کہ توانائی، خارجہ اور اطلاعات کے وزرا بھی اسرائیلی حملے میں مرنے والوں میں شامل ہیں۔

یمن میں حوثی سپریم پولیٹیکل کونسل کے سربراہ مہدی المشاط نے ایک ٹی وی تقریر میں کہا کہ ’ہمارا مؤقف جیسا ہے ویسا ہی رہے گا اور جب تک جارحیت ختم نہیں ہو جاتی اور محاصرہ نہیں ہٹتا، چاہے مشکلات کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں، یہ مؤقف قائم رہے گا۔‘

الجزیرہ ٹیلی ویژن کے مطابق المشاط کا کہنا تھا کہ اسرائیل سے ’انتقام‘ لیا جائے گا۔

’ہم انتقام لیں گے اور زخموں کی گہرائی سے  فتح تراشیں گے۔‘