بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ سے تین ماہ قبل جبری گمشدگی شکار ہونے والی نوجوان خاتون ماہ جبین بلوچ کے بارے میں تاحال کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ انہیں پاکستانی فورسز اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے حراست میں لیا تھا، لیکن گرفتاری کے بعد سے اب تک اُن کی خیریت یا موجودگی کے مقام کے بارے میں کوئی سرکاری وضاحت نہیں دی گئی۔
مئی 2025 کی رات تقریباً تین بجے، کوئٹہ سول ہسپتال میں نرسنگ ہاسٹل سے سیکیورٹی فورسز بشمول CTD اہلکار نے ماہ جبین بلوچ کو بغیر کسی قانونی وارنٹ کے گرفتار کر کے لاپتہ کر دیا ۔
وہ بلوچستان یونیورسٹی میں لائبریری سائنس کی طالبہ تھیں اور پولیو کا شکار بھی تھیں، جو ان کے لیے مزید تحفظ کا جواز فراہم کرتا تھا ۔
ماہ جبین کے بھائی، یونس بلوچ جو خود ایک طالب علم ہیں کو اس سے تقریباً ایک ہفتہ پہلے ان کے گھر سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔