بلوچستان یونیورسٹی کے طالب علم اور کیچ کے ایک شخص کو جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔
بلوچستان یونیورسٹی کے سوشل ورک ڈپارٹمنٹ سے تعلق رکھنے والے نوجوان طالب علم عمران بلوچ کو اُن کے اہل خانہ کے مطابق 27 اگست کی رات کوئٹہ کے علاقے اے ون سٹی میں واقع گھر سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ عمران ایک پرامن شہری اور تعلیم سے وابستہ نوجوان ہیں۔ اُنہوں نے ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر عمران پر کوئی الزام ہے تو اُنہیں عدالت کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ ان کا قانونی حق محفوظ رہ سکے۔
انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ عمران کو بازیاب کر کے ہمارے حوالے کیا جائے۔ اگر اُن پر کوئی الزام ہے تو ہم چاہتے ہیں کہ عدالتی کارروائی ہو۔ اس طرح لاپتہ کر دینا خاندان کے لیے ایک نہ ختم ہونے والا دکھ ہے۔
اسی روز، ضلع کیچ کے علاقے نوانو سے لیاقت ولد غلام رسول کو پاکستانی فورسز نے حراست میں لیا۔
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا معاملہ ایک عرصے سے موضوعِ بحث رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا اس بات پر زور دیتی رہی ہیں کہ افراد کو لاپتہ کرنے کے بجائے قانونی تقاضوں کے مطابق عدالتوں میں پیش کیا جانا چاہیے۔
بلوچستان میں طلبہ اور نوجوانوں کی گمشدگی کے متعدد کیسز پہلے بھی سامنے آ چکے ہیں، جن پر اہل خانہ اکثر احتجاج کرتے ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی مہمات چلتی رہی ہیں۔