مستحکم حقیقت – ٹی بی پی اداریہ

24

مستحکم حقیقت

ٹی بی پی اداریہ

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے قائدین پانچ مہینے گزرنے کے بعد بھی پسِ زندان ہیں اور ریاستی ادارے انہیں مزید پابندِ سلاسل رکھنے کے لئے نئے ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں۔ سیاسی نوعیت کے کیسز ہونے اور عدم ثبوت کے باوجود بلوچستان کی عدالتیں دو مہینے میں چوتھی بار بلوچ رہنماؤں کا ریمانڈ منظور کرچکی ہیں اور کراچی کی عدالت نے ایک بوگس مقدمے میں ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری کے احکامات بھی دیے ہیں تاکہ انہیں گرفتار کرکے کراچی جیل منتقل کیا جاسکے۔ پشتون رہنما علی وزیر کو دو سال تک پابندِ سلاسل رکھنے کے لئے ریاستی اداروں نے جو ہتھکنڈے استعمال کئے، اب وہی طریقہ کار بلوچ یکجہتی کمیٹی کے قائدین کے خلاف آزمایا جارہا ہے۔

بلوچ رہنماؤں کے لواحقین اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ان کی بازیابی کے لئے پینتالیس دن سے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں احتجاجی دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ تاہم حکومت اس مسئلے کی سنگینی کا ادراک کرنے کے بجائے بلوچستان کی سیاست پر مسلط کی گئی متنازعہ شخصیات سے پریس کانفرنس کروا کر جبری گمشدگیوں کی حقیقت کو جھٹلانے کی کوشش کررہی ہے۔ حالانکہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی حالیہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ حکومتی دعوؤں کو رد کرتی ہے اور بلوچستان کی حقیقی صورتحال کو سنگین قرار دیتے ہوئے واضح کرتی ہے کہ “بلوچستان میں ایک نہایت تشویشناک رجحان سامنے آیا ہے: جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جمہوری آزادیاں محدود کی جا رہی ہیں، صوبائی خودمختاری مزید کمزور ہوچکی ہے، صحافت پر سخت قدغنیں عائد ہیں، اور قانون سے بالاتر رہنے کا رجحان بے قابو ہوچکا ہے۔ یہ تمام عوامل بلوچستان میں عوامی بیگانگی اور سیاسی عدم استحکام کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔”

بلوچستان میں ریاستی جبر اور جبری گمشدگیوں کی مستحکم حقیقت کو بیانیوں کے ذریعے جھٹلانے کی کوشش معروضی حقائق کو تبدیل نہیں کرسکتی۔ سیاسی رہنماؤں کو پابندِ سلاسل رکھنے کے باوجود بھی ریاستی جبر کی پالیسیوں کے خلاف مزاحمتی آوازیں اٹھتی رہیں گی۔