بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماء ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کا کہنا ہے کہ حال ہی میں کوئٹہ میں ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں میر، وڈیرے، سردار اور دیگر بااثر شخصیات کو بلایا گیا۔ بعض افراد کو سیدھا میٹنگ کا مقصد بتایا گیا، جبکہ کچھ کو یہ کہہ کر بلایا گیا کہ یہ صرف ایک قبائلی جرگہ ہے جو بڑھتی ہوئی حالات کی خرابی کے باعث بلایا گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جب لوگ پہنچے تو معلوم ہوا کہ میٹنگ کی صدارت ایک وردی پوش شخص کر رہا ہے۔ بقول کہانی سنانے والے کے، کسی کو اس شخص کا نام یا عہدہ نہیں بتایا گیا۔ میٹنگ کا اصل ایجنڈا یہ تھا کہ بلوچ نوجوان جنگ کی طرف کیوں جا رہے ہیں۔
“بشیر زیب اور اللہ نظر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اگر یہاں سے نوجوان بھرتی نہ ہوں تو وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ کسی نے ہچکچاتے ہوئے کہا: “سر، یہ لڑکے کسی کی سنتے نہیں، سب اپنی مرضی سے جا رہے ہیں۔” اس پر وہ افسر آگ بگولہ ہوگیا۔ اس نے سب کو طعنے دیے، گالیاں دیں، اور ایک ایک کو مخاطب کرکے کہا: “تم؟ تمہاری تو اوقات نہیں تھی، ہم نے تمہیں یہ عہدہ دیا۔”
“اس نے سب کی کمزوریاں دوسروں کے سامنے عیاں کیں اور حکم دیا: “ان لڑکوں کو روکنے کے لیے لالچ دو، پیسے دو، نوکریاں دو، ان کے گھر والوں کو اٹھاؤ—جو کرنا ہے کرو—لیکن کسی طرح پہاڑوں پر جانے سے روک کر واپس لے آؤ۔”
صبیحہ بلوچ کا کہنا ہے کہ یہ میٹنگ کہاں اور کیسے ختم ہوئی، اس کا علم نہیں۔ لیکن جرنیلوں کو اتنا ضرور بتا دینا چاہیے کہ جو نوجوان پہاڑوں پر جا چکے ہیں، انہیں واپس لانا آسان نہیں۔ یہ بوجھ کمزور کندھوں پر ڈالنا سراسر ظلم ہے۔ اگر آپ واقعی مسائل کم کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے نوجوانوں کو پہاڑوں کی طرف دھکیلنے کا جو سلسلہ آپ نے شروع کیا ہے، اسے روکیں۔
انہوں نے کہا کہ بارہا کہا گیا ہے کہ پُرامن سیاسی کارکنوں کو اغوا کرنا، ان پر پابندیاں لگانا اور پُرامن سیاست کا راستہ بند کرنا ہی نوجوانوں کو جنگ پر مجبور کرتا ہے۔ یہ عمل بند کریں۔ سیاسی کارکنوں کو رہا کریں۔ وہ نہ آپ سے پیسہ مانگیں گے، نہ عہدہ، اور نہ ہی کرپشن کی دکانیں کھولیں گے۔ ان کی سیاست سے نوجوان پہاڑوں کے بجائے مکالمے اور بات چیت کا راستہ اپنائیں گے۔
صبیحہ بلوچ نے کہا کہ اگر واقعی امن چاہتے ہیں تو لوٹ مار، قبضہ گیری اور ظلم ختم کرنا ہوگا۔ ورنہ امن کا خواب ادھورا رہے گا۔
انہوں بلوچ یکجہیتی کمیٹی کے رکن نظر بلوچ کے جبری گمشدگی کے حوالے سے کہا کہ نظر بلوچ کی جبری گمشدگی ناقابلِ برداشت ہے۔ تمام جبری گمشدہ افراد کو رہا کیا جائے اور پُرامن سیاست کے لیے جگہ بنائی جائے، اسی راستے سے حقیقی امن ممکن ہے