یرغمال بنائی گئی ویگن اور اس میں سوار مسافر تاحال لاپتہ ہیں، مغویوں کے اہل خانہ کا کوئٹہ کراچی شاہراہ دھرنا۔
تفصیلات کے مطابق چار روز قبل حب چوکی سے خضدار کے تحصیل زہری آنے والی ایک ویگن کو پیر عمر کے علاقے میں پاکستانی فورسز کے اہلکاروں نے روک کر مسافروں سمیت یرغمال بنا لیا۔
مذکورہ واقعے کے دوران پاکستانی فورسز نے خواتین اور بچوں کو زبردستی گاڑی سے اتار دیا، جبکہ مرد مسافروں کو گاڑی سمیت اپنے ساتھ لے گئے۔
واقعے کے خلاف لواحقین گذشتہ چار روز سے احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ گزشتہ روز مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فورسز نے فائرنگ اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ وڈھ کے علاقے میں زہری کے رہائشیوں کو گذشتہ چار دنوں سے یرغمال بنا کر رکھا گیا ہے، اور مقامی انتظامیہ اس حوالے سے کوئی عملی اقدامات نہیں کررہی۔
گزشتہ روز زہری کے رہائشیوں نے اس واقعے کے خلاف مقامی مساجد میں دھرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد خضدار زاوہ کے قریب بڑی تعداد میں مقامی افراد نے کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کو بلاک کر دیا۔
کوئٹہ، کراچی قومی شاہراہ پر دھرنے کے باعث درجنوں گاڑیاں پھنس کر رہ گئے جسے بعد ازاں انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کے بعد کھول دیا گیا۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ انتظامیہ یرغمالیوں کی فوری بازیابی کو یقینی بنائے، بصورت دیگر وہ دوبارہ کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے اور مسافروں کی رہائی تک دھرنا جاری رکھیں گے۔