خضدار: جبری گمشدگیوں کے خلاف مظاہرین پر فورسز کی شیلنگ

21

کوئٹہ کراچی شاہراہ پر خضدار کے قریب زاوہ اور زہری کے مقامات پر حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ حب چوکی سے خضدار آنے والی ویگن کے مسافروں کے اغواء کے بعد احتجاج دوسرے روز بھی جاری ہے۔ شاہراہ کی بندش کے باعث سیکڑوں گاڑیاں پھنس گئیں۔

تین روز قبل حب چوکی سے خضدار آنے والی ویگن کو پیر عمر کے مقام پر فورسز نے روکا۔ خواتین اور بچوں کو گاڑی سے زبردستی اتار دیا گیا جبکہ مرد مسافروں کو گاڑی سمیت نامعلوم مقام پر لے جایا گیا۔ اس واقعے کے خلاف اہلِ علاقہ اور متاثرہ خاندانوں نے احتجاج شروع کر دیا جو تاحال جاری ہے۔

مظاہرین نے شاہراہ کو بند کر کے دھرنا دیا ہوا ہے۔ بابا فتح زہری نے فون پر صحافیوں کو بتایا کہ خضدار کے اسسٹنٹ کمشنر اور لیویز فورس نے پرامن احتجاج کو طاقت کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی۔

ان کے مطابق اہلکاروں نے فائرنگ اور آنسو گیس کا استعمال کیا جس سے دو مسافر زخمی ہوئے۔

انہوں نے کہا ہے کہ لیویز اہلکاروں نے خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی اور نوجوانوں کو زدوکوب کیا۔

بابا فتح زہری نے زہری کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں دھرنے میں شرکت کریں تاکہ خضدار انتظامیہ کی ’’زیادتیوں‘‘ کو ناکام بنایا جا سکے۔