تربت: بلوچ یکجہتی کمیٹی کا جبری گمشدگان کے عالمی دن پر خاموش احتجاج

7

جبری لاپتہ افراد کے عالمی دن کے موقع پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کیچ اور جبری لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے تُربت پریس کلب کے سامنے خاموش احتجاجی مظاہرہ کیا۔ 

اس مظاہرے میں لاپتہ افراد کے لواحقین سے تعلق رکھنے والے خواتین، بچے، بزرگ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔

اس موقع پر شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف نعرے اور متاثرہ خاندانوں کے حق میں پیغامات درج تھے۔

مظاہرین نے کہا کہ بلوچستان میں ہزاروں افراد برسوں سے جبری طور پر لاپتہ ہیں جن کے خاندان اذیت ناک انتظار کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

احتجاجی مظاہرین نے کہا کہ وہ پرامن انداز میں اپنی آواز حکام تک پہنچا رہے ہیں تاکہ لاپتہ افراد کی بازیابی ممکن ہو اور ان کے خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے، مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ فوری طور پر روکا جائے اور موجودہ لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے، اور اس المیے نے ہزاروں خاندانوں کو اُجاڑ دیا ہے۔

انہوں نے مزید  کہا کہ عالمی برادری کو بھی چاہیے کہ وہ بلوچستان کی اس انسانی بحران پر خاموش تماشائی بننے کے بجائے عملی کردار ادا کرے۔