بلوچستان: قدیم سرزمین سے عصرِ ستم تک – عابد بلوچ

36

بلوچستان: قدیم سرزمین سے عصرِ ستم تک

تحریر: عابد بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچستان، وہ سرزمین جو ہزاروں سال پرانی تہذیبوں کی امین ہے، پانچویں صدی قبلِ مسیح میں بھی اپنے وجود کا احساس دلاتی تھی۔ قدیم مورخ ہیروڈوٹس (Herodotus)، جسے تاریخ کا باپ کہا جاتا ہے، نے اپنی معروف کتاب Histories میں “Gedrosia” کا ذکر کیا ہے، ایک ایسا خطہ جو آج کے مکران، بلوچستان کے ساحلی علاقوں سے مماثلت رکھتا ہے۔

صدیوں بعد، 1817 میں جان جانسن کی کتاب A Journey from India to England, Through Persia… میں بلوچستان کے جغرافیہ، قبائلی نظام، اور معیشت کا تذکرہ کیا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب بلوچستان ایران اور ہندوستان کے درمیان ایک اہم تجارتی پل تھا۔ مکران کا ساحل مشرق و مغرب کی تجارت کی راہداری تھا، اور یہاں کے باسی سادہ، مہمان نواز، اور محنتی لوگ تھے۔

1839 میں جب برطانوی سامراج نے بلوچستان پر قبضے کی کوشش کی، تو بلوچوں نے مزاحمت کی۔ تو، میر محراب خان، قلات کے بہادر سردار تھے جنہوں نے 13 نومبر کو انگریزوں کے خلاف لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ لیکن نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کے بعد بلوچستان نے حقیقی آزادی نہ دیکھی۔

وہی محمد علی جناح، جو پاکستان کے بانی اور نام نہاد وکیل تھے، دراصل خانِ قلات کے قانونی مشیر (Solicitor) بھی رہ چکے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد جناح نے خانِ قلات سے الحاق کی بات کی، لیکن خان نے اسے واضح طور پر مسترد کر دیا۔ انہوں نے ایک ہمسایہ ریاست کی حیثیت سے خیرسگالی کے تحت پاکستان کو مالی امداد بھی دی، سونے کی بھاری مقدار دی گئی تاکہ نوآزاد ریاست معاشی طور پر سنبھل سکے۔

مگر آستین کے سانپوں نے یہی احسان قبضے سے چکایا۔ جلد ہی پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے بلوچستان کو وسائل سے مالا مال خطہ قرار دے کر اسے بزور طاقت اپنے اندر ضم کرنے کی منصوبہ بندی کی۔ 27 مارچ 1948 کو بلوچستان پر جبری قبضہ کر لیا گیا، جسے بلوچ قوم نے کبھی تسلیم نہیں کیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب بلوچ عوام کو ان کے اپنے گھروں میں غلام بنا دیا گیا اور ایک طویل، خونی جدوجہد کا آغاز ہوا۔

برطانوی دور میں بھی بلوچوں کے جان و مال اور ثقافت کی نسبتاً حفاظت کی جاتی تھی، لیکن بعد ازاں حکومتِ پاکستان نے ان پر معاشی اور ثقافتی حملے شروع کیے۔ جیسے بلوچستان کے پہاڑی علاقے، تگران، کبھی پرامن اور سادہ زندگی کا نمونہ تھے۔ لوگ کھیتی باڑی، مویشی پالنے اور فطرت سے جڑی زندگی گزارتے تھے۔ روزمرہ کی زندگی شکار، قصے، اور باہمی رشتوں کی خوشبو سے مہکتی تھی۔ لیکن یہ سب اس وقت ٹوٹا جب جبری ٹیکس گٹہ مسلط کیا گیا۔

جسے دس بکریوں پر ایک بکری بطور ٹیکس کی آڑ میں ریاستی کارندوں نے عام شہریوں کو ظالم، غدار، اور دشمن قرار دیا۔ گھروں پر چھاپے، لوٹ مار، اور تذلیل شروع ہوئی۔ لوگوں کو پہاڑوں پر جانے پر مجبور کیا گیا، اور یہی وہ وقت تھا جب بغاوت کی آواز بلند ہوئی۔
2006 کے بعد حالات مزید بگڑتے چلے گئے۔ نواب اکبر بگٹی کی شہادت اور دیگر واقعات نے جلتی آگ میں تیل کا کام کیا۔ چار دیواری کی حرمت پامال ہوئی، جبری گمشدگیاں معمول بن گئیں، اور ہزاروں نوجوان بغیر کسی مقدمے کے لاپتا کر دیے گئے۔ ان لاپتا افراد کی مائیں، بہنیں آج تک عدالتوں، پریس کلبوں، اور انسانی حقوق کے دفاتر کے چکر کاٹ رہی ہیں، مگر سننے والا کوئی نہیں۔

بلوچستان میں انصاف کا نظام مکمل طور پر ناکام ہے۔ پارلیمنٹ ہمیشہ سے منتخب نہیں بلکہ “منتخب کروائے” گئے افراد سے بھری جاتی ہے۔ وہی افراد اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں جو ریاستی پالیسیوں کے حامی ہوں اور بلوچ نسل کشی میں براہِ راست شریک رہے ہوں۔

طالبعلموں کو محض بلوچ تاریخ پڑھنے پر جیلوں میں ڈالا جاتا ہے، اساتذہ کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اور مسلح گروہ جنہیں ریاستی سرپرستی حاصل ہے، وہ دہشت گردی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی جیسے پُرامن کارکنوں کو بھی جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے، بغیر مقدمے، بغیر سماعت، بغیر انصاف۔

بلوچ نوجوان، مرد و خواتین اب مسلح تحریکوں کا حصہ بن رہے ہیں۔ ان میں سے بعض فدائی کارروائیوں کے لیے بھی تیار ہیں۔ ریاستی جبر کے مقابلے میں بلوچ عوام ایک زندہ اور مسلسل مزاحمت کرتی ہوئی قوم بن چکی ہے۔

بلوچستان اس وقت سراپا احتجاج ہے۔ ہر ضلع، ہر شہر، ہر گاؤں میں آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ لیکن پاکستان کا میڈیا ان مظالم پر خاموش ہے۔ بلوچ عوام کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد میں جب بلوچ مائیں، بہنیں اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے آئیں تو انہیں بھی پولیس تشدد، گرفتاری، اور بے حرمتی کا سامنا کرنا پڑا۔

آج، بلوچ قوم تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے، جہاں تاریخ، مزاحمت اور سچائی کے متوازی ایک نئی تحریک جنم لے چکی ہے۔ وہ تحریک جو ایک بار پھر دنیا کو یہ یاد دلا رہی ہے کہ بلوچستان صرف ایک خطہ نہیں، بلکہ ایک جدوجہد کا نام ہے، اپنی شناخت، اپنی زمین، اپنی زبان اور اپنے حق کے لیے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔