رہنماؤں کے کیس خارج :دو رکنی بینچ نے قانون کے بجائے خفیہ اداروں کی پیروی کی۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی

102

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے بلوچستان ہائی کورٹ کی جانب سے رہنماؤں کی تھری ایم پی او کے تحت کیس خارجی کے حوالے بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ جس میں جسٹس محمد عامر نواز رانا اور جسٹس محمد اعجاز سواتی شامل تھے نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، مرکزی رکن بیبگر بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی سمیت بیبو بلوچ، گلزادی بلوچ اور ماما غفار کے کیس کو ریاستی خفیہ اداروں فوج اور بلوچستان کی کٹھ پتلی حکومت کے حکم پر خارج کردیا۔

تنظیم کے مطابق مذکورہ بینچ نے گزشتہ دو ماہ کے دوران اس کیس کی متعدد سماعتیں کیں سماعتوں کے دوران ریاستی وکیل کوئی قابلِ قبول دلیل یا ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا لیکن ان دونوں جج صاحبان نے قانون اور آئین کے مطابق فیصلہ کرنے کے بجائے تاخیری حربے استعمال کیے اور مقدمے کو بلاجواز مؤخر کرتے رہے۔

بی وائی سی کے مطابق دس روز قبل اس کیس کا فیصلہ محفوظ کیا گیا لیکن مسلسل تاخیر کے بعد آج فیصلہ سناتے ہوئے کیس کو خارج کردیا گیا۔

انہوں نے کہا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی دباؤ یا لالچ کے بغیر آئین و قانون کے مطابق فیصلے کرے عدلیہ کا کام خفیہ اداروں اور فوج کی پیروی نہیں بلکہ عوام کو انصاف فراہم کرنا ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس بینچ کے دونوں جج صاحبان نے عدلیہ کے اصولوں اور معیار کو خفیہ اداروں فوج اور بلوچستان کی کٹھ پتلی حکومت کے ہاتھوں گروی رکھ دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ ہم اس جبر اور عدالتی ناانصافی کے خلاف کسی صورت خاموش نہیں رہیں گے بلکہ بلوچ عوام کو پہلے سے زیادہ منظم کریں گے اور عوامی طاقت کے ذریعے اس ظالمانہ نظام کے خلاف لڑیں گے اور اسے شکست دیں گے۔