“Fear is a reaction. Courage is a decision.”
تحریر: بادوفر بلوچ
خوف سب سے طاقتور ہتھیاروں میں سے ایک ہتھیار ہے جسے دشمن ہمارے خلاف استعمال کر سکتا ہے۔ ہمیں قید کرنے کے لیے جسمانی زنجیروں کی ضرورت نہیں ہے—صرف شک، دھمکی، اور نفسیاتی دباؤ ہی اس کیلئے کافی ہیں۔ پوری تاریخ میں، حکمرانوں، آمروں اور جابروں نے خوف کو کنٹرول کے ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کیا ہے اور لوگوں کو یہ باور کرایا ہے کہ مزاحمت بیکار ہے۔ وہ ایسا اس لیے کرتے تھے تاکہ اپنی تسلط، اپنی سفاکیت، اپنی ناجائز حکمرانی اور قبضہ گیریت کو بلا خوف و خطر برقرار رکھ سکیں۔ لیکن سچائی باقی ہے جسے نیلسن منڈیلا نے کچھ یوں بیان کیا: “خوف سے نمٹنے کا واحد طریقہ اس کا سامنا کرنا ہے” اور “میں نے سیکھا کہ ہمت خوف کی کمی نہیں، بلکہ اس پر فتح ہے۔ بہادر وہ نہیں جو خوف محسوس نہ کرے، بلکہ وہ ہے جو اس خوف کو فتح کر لے۔” خوف خطرے کا فطری ردعمل ہے، لیکن اگر ہم اسے اجازت دیں یہ ہمارے لیے نفسیاتی قید خانہ بن جاتا ہے، جس میں ہم رفتہ رفتہ خاموشی کے ساتھ جسمانی طور ہر مر تو نہیں جاتے، لیکن زندہ لاش بن کر خود پر اور اپنے معاشرے پہ بوجھ بن جاتے ہیں۔
کنٹرول حاصل کرنے والا دشمن ہمیشہ جسمانی طور پر حملہ نہیں کرتا بلکہ وہ دماغ پر حملہ کرتا ہے۔ نفسیاتی جنگ ان کے ذریعے چلتی ہے: دھمکیاں، ہیرا پھیری، اور پروپیگنڈے کا استعمال خود پر شک پیدا کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ سب عوامل War of Nerves کے آلات ہیں جنہیں تب ہی بروئے کار لایا جاتا ہے، جب ایک فریق اخلاقی برتری حاصل کرنے اور اپنے مخالف کے عزم و حوصلے کو پست کرنے کی نیت باندھتی ہے۔ یکجہتی کو بند کرنا لوگوں کو اپنی جدوجہد میں تنہا محسوس کروانا ہے۔ جھوٹ اور غلط بیانیوں کو پھیلانے سے الجھن اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ سزائیں اور دوسروں پر جبر انتباہ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ یہ ہتھکنڈے مزاحمت کو مفلوج کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں، جس سے افراد کو یقین ہوتا ہے کہ کھڑا ہونا ناامیدی ہے۔لیکن تاریخ نے دوسری صورت میں ثابت کیا ہے کہ خوف اس وقت اپنی طاقت کھو دیتا ہے جب اسے چیلنج کیا جاتا ہے۔ اسی پہلو کو امریکی ناول اور افسانہ نگار لاؤسا الکوٹ کہتی ہیں کہ “میں طوفانوں سے نہیں ڈرتی، کیونکہ میں اپنی کشتی کو چلانے کا ہنر سیکھ رہی ہوں۔”
خوف پر قابو پانے کا پہلا قدم یہ تسلیم کرنا ہے کہ یہ آپ پر مسلط ہے۔ نفسیاتی خوف پہ اکثر مبالغہ آرائی کی جاتی ہے کہ یہ حقیقت سے زیادہ خطرناک دکھائی دیتا ہے۔ جیسا کہ سن زو نے آرٹ آف وار میں لکھا ہے، “جب آپ مضبوط ہوتے ہیں تو کمزور دکھائی دیتے ہیں، اور جب آپ کمزور ہوتے ہیں تو مضبوط دکھائی دیتے ہیں۔” ایک دشمن جو خوف کے ذریعے قابو پانے کی کوشش کرتا ہے وہ اکثر اپنے ہی عدم تحفظ کی وجہ سے ایسا کرتا ہے۔ اتحاد میں طاقتور ظالم تنہائی میں پنپتے ہیں لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ اتحاد خوف کے خلاف سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ جب افراد ایک ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، تو خوف کا وزن مشترک ہوتا ہے، اور مزاحمت زیادہ طاقتور ہو جاتی ہے۔ مارٹن لوتھر کنگ جونیئر نے کہا تھا، ’’ہمیں خوف کے سیلاب کو روکنے کے لیے ہمت کی ڈیکیں بنانا ہوں گی۔‘‘ خوف تب ٹوٹ سکتا ہے جب لوگ ایک ہو کر کھڑے ہوں۔ طاقت کے طور پر علم غلط معلومات اور خوف کو ہوا دیتی ہیں۔ جب لوگوں کو جہالت میں رکھا جاتا ہے تو ان کے لیے جوڑ توڑ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ تریاق سچائی ہے — تاریخ کو سمجھنا، حقائق کی تلاش، اور جبر کے لیے تیار کی گئی داستانوں سے سوال کرنا۔ میلکم ایکس نے ایک بار کہا تھا، “اگر آپ محتاط نہیں رہیں گے، تو اخبارات آپ کو مظلوم لوگوں سے نفرت کرنے اور ظلم کرنے والوں سے محبت کرنے پہ مجبور کریں گے۔” علم ہی وہ طاقتور ہتھیار ہے جو خوف کی بنیاد کو ختم کر دیتا ہے۔
خوف کی فضا کو تشکیل دینا ایک ریاست یا جابر حکمران کی تسلط پہ مبنی پالیسیوں میں سے ایک ہولناک پالیسی ہے۔ اس پالیسی کا مقصد نہ صرف جسمانی تشدد اور ازیت بلکہ نفسیاتی ازیت اور ایزا رسانی سے محکوم اور مظلوم قوم کو دوچار کرنا ہے۔ کیونکہ وہ اس امر سے بخوبی واقف ہوتے ہیں جب ایک انسان کے ذہن کو خوف و خطر میں مبتلا کیا گیا، تو اُس کی مزاحمتی ورثے اور انقلابی امنگ و عزم کو با آسانی مٹایا جا سکتا ہے۔ جابرین کی ہمیشہ یہ کاوش و کوشش رہتی ہے کہ اپنے زیرِ تسلط عوام سے حفظ و امان کے احساس کو چھین لے اور اُس سے سر پہ ہمیشہ اسی تناؤ اور دباؤ کو برقرار رکھے کہ جانے کب قہر کے بادل اُس پر برسیں گے۔ کیونکہ اُنہیں اپنی تسلط کے دوران اس امر کا ادراک ہو جاتا ہے کہ قوموں کو بہ زورِ طاقت اور جسمانی تشدد محکوم نہیں بنایا جا سکتا، بلکہ اس کیلئے ایک ایسی فضا تشکیل دینے کی ضرورت پڑتی ہے جس میں قوم کا ہر انسان خوف کے سائے میں پرورش پاکر خود کو زندگی اور موت درمیاں بے جان اور بے بس تصور کرے۔ اسی ہولناک نظریے کو Achille Mbembe نے نیکرو پالٹکس کے نام پہ اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔
خوف کے باوجود ایکشن لینا خوف کو از خود ختم نہیں کرتا بلکہ اس کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ نفسیاتی جبر کے خلاف ہرزہ سرائی اس کی گرفت کو کمزور کر دیتی ہے۔ مارک ٹوین نے لکھتے ہیں کہ “جرات اور خوف کے خلاف مزاحمت، خوف پر عبور ہے۔ یہ خوف کی عدم موجودگی نہیں،”۔ چھوٹی چھوٹی حرکتیں، چاہے سچ بولنا، جبر سے انکار کرنا، یا مزاحمت میں دوسروں کا ساتھ دینا وغیرہ دشمن کے نفسیاتی کنٹرول کو ختم کر دیتے ہیں۔ خود کو مکمل طور ہر کسی کاز کیلئے وقف کرنے کا عمل جب بے غرضی، ایمانداری اور مخلصی کے زینوں پہ چڑھ کر کامیابی کو یقینی بناتی ہے تو وہ دیگر لوگوں کیلئے ایک مثال بن جاتی ہے اور لوگوں کیلئے اپنے خوف کے خول سے نکلنے کا راستہ فرائم کرتی ہے۔ دشمن کا مقصد جنگ لڑنے سے پہلے آپ کو ذہنی طور پر ہتھیار ڈالنا ہے۔ لیکن تاریخ ان لوگوں کو اپنے دامن میں سماتی ہے جو خوف کے سامنے جھکنے سے انکار کرتے ہیں
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔