بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے جمعے کے روز مستونگ لکپاس کے مقام پر بی این پی کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جب ہم بلوچستان کہتے ہیں، ہمارے سب کی آنکھوں میں ایک چمک دکھائی دیتی ہے، ہمارے دل خوش ہوتے ہیں، یہ وہ محبت ہے جو ہم سب کو متحد کرتی ہے، یہ وہ محبت ہے جو لوگوں کے سینوں کو بولان کرتی ہے اور حوصلوں کو چلتن بناتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج ہم جو زندگی گزار رہے ہیں وہ کوئی زندگی نہیں کہ ہر چورائے پر ہم سے پوچھا جائے کہ ‘کہاں سے آرہے ہو، کہاں جارہے ہو ۔
انہوں نے کہاکہ یہ کوئی زندگی نہیں کہ ہم ہر روز لاشیں اٹھاتے ہیں۔ یہ کوئی زندگی نہیں ہر روز ہم اپنے لاپتہ بھائی کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں ، یہ کوئی زندگی نہیں کہ باہر کا کوئی آکر پوچھے کہ تم کون ہو، تمہاری شناخت کیا ہے، تمہارا علاقہ کا کونسا ہے یہاں کیا کررہے ہو ۔
انہوں نے کہاکہ ہم اسی امید کیساتھ کھڑے ہیں کہ اپنے پورے قوم کو جھگائیں گے اور اپنے دشمن کو یہاں سے بھاگنے کا موقع بھی نہیں دینگے ۔
انہوں نے کہاکہ ہم اپنے دشمن کے ان سب خیالات کو بھی یہاں دفن کرینگے، اس کرپٹ، چور، بے ضمیر اور بے اخلاق، اس کے دیئے گئے تمام عادات کو یہاں دفن کرینگے ۔
ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے کہاکہ ہم پر فرض ہے کہ اپنے بچوں کو، لوگوں کو وہ شعور دیں کہ وہ اپنے زمین کیلئے، اپنے قوم کیلئے اٹھ کھڑے ہوں۔ آج خواتین شعوری طور پر اس جہد کا حصہ ہیں، وہ سمجھ چکے ہیں کہ جنگ آپ پر آتی ہے، آپ کے گھر تک پہنچتی ہے تو وہ نہیں دیکھتی کہ آپ خاتون یا مرد ہو۔
مزید کہاکہ ہم اسی امید کیساتھ کھڑے ہیں کہ اپنے پورے قوم کو جھگائیں گے اور اپنے دشمن کو یہاں سے بھاگنے کا موقع بھی نہیں دینگے۔
انہوں نے کہاکہ ہمیں پتہ ہے کہ اس راستے میں کتنی دشواریاں ہیں، ہمیں پتہ ہے کہ ہم نے انگاروں ہم ہاتھ ڈالا ہے اس میں ہمارے ہاتھ جھلس سکتے ہیں، ہمیں پتہ ہے کہ اس راستے میں کتنی سختیاں ہیں لیکن ہمیں یہ بھی پتہ ہے کہ وہ منزل کتنی حسین ہے۔ ہمیں یہ بھی پتہ ہے کہ جس بلوچستان کیلئے ہم جہد کررہے ہیں وہ کتنی خوبصورت ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہمیں جذباتی کہا گیا، بولا گیا کہ انہوں نے دشمن کو نہیں دیکھا ہے لیکن ہم یہی کہتے ہیں تم نے متحد ہونے کی طاقت نہیں دیکھی ہیں۔ تم نے یہ نہیں دیکھا ہے کہ جب ایک بندہ اپنے تمام آسودئی، اپنی زندگی، اپنے اچھے دن قوم کیلئے چھوڑ کر نکلتا ہے تو قوم اس کو اکیلے نہیں چھوڑتا۔