بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے سردار اختر مینگل کے جاری دھرنے اور کل لکپاس سے کوئٹہ کی طرف لانگ مارچ پر موقف دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کو کل بی این پی کے دھرنے میں بی وائی سی کی قیادت بالخصوص ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کی جانب سے انتہائی قابل اعتراض تقریر پر تشویش ہے ۔
شاہد رند نے کہا کہ بی این پی الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ پارٹی ہے جس کے دھرنے میں ایسی تقاریر قابل تشویش ہیں جبکہ اختر مینگل کی جانب سے بھی صوبائی حکومت اور سرفراز بگٹی کے بارے میں تقریر کی تاہم اس کا جواب کا اختیار صوبائی حکومت سرفراز بگٹی اور اس کے قبیلہ کی جانب سے دیا جائے گا ۔
صوبائی حکومت کے ترجمان شاہد رند نے کہا کہ اختر مینگل کو صوبائی حکومت نے آفر کی کہ وہ شاہوانی اسٹیدیم میں آکر جلسہ کر لیں لیکن انہوں نے اس آفر کو ٹھکرا دی اور اپنے تین مطالبات پر قائم رہے لیکن صوبائی حکومت واضح کرنا چاہتی ہے کہ کوئٹہ میں دفعہ 144 نافذ ہے اگر انہوں نے کوئٹہ کی طرف لانگ مارچ کرنے کی کوشش کی تو قانون اپنا راستہ لے گا۔
دوسری جانب بلوچستان نیشنل پارٹی کل کوئٹہ کی طرف مارچ کا اعلان کیا ہے جسکو بلوچ یکجتی کمیٹی کی حمایت حاصل ہے ۔