کوئٹہ۔ لک پاس دھرنا،حکومتی وفد کی سردار اختر مینگل سے مذاکرات کی کوشش

387

حکومت بلوچستان کی جانب سے سابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی راحیلہ درانی اور صوبائی وزیر تعلیم پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد نے آج سردار اختر مینگل سے مذاکرات کے لیے لک پاس دھرنا گاہ کا دورہ کیا۔

یہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لیے بھیجا گیا تیسرا وفد ہے۔ اس سے قبل دو مرتبہ بات چیت ناکامی سے دوچار ہوئی جس کے بعد سردار اختر مینگل نے 6 اپریل کو دھرنا ختم کر کے کوئٹہ کی جانب احتجاجی مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومتی وفد نے دھرنے کے شرکا سے پرامن حل کی اپیل کی اور مظاہرین کے مطالبات پر سنجیدہ گفتگو کی کوشش کی۔ تاہم اب تک مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کے حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

سردار اختر مینگل کی سربراہی میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر گرفتار افراد کی رہائی کے لیے لک پاس میں کئی دنوں سے دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ دھرنے کے شرکا کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے احتجاج جاری رہے گا۔

بلوچستان کی سیاسی صورتحال اس وقت نازک موڑ پر ہے، اور اگر 6 اپریل کو کوئٹہ کی طرف مارچ ہوا تو حالات مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اب تمام تر توجہ سردار اختر مینگل اور حکومتی وفد کے درمیان ہونے والی اس اہم ملاقات پر مرکوز ہے جو آئندہ کے سیاسی منظرنامے کا رخ متعین کر سکتی ہے۔