کارواں جو بہار پہنچا ۔ کامریڈ گُرو

84

کارواں جو بہار پہنچا
تحریر: کامریڈ گُرو
دی بلوچستان پوسٹ

بلوچستان وہ سرزمین ہے جہاں جنگوں کی مثالیں ملتی ہیں کہ ہر دور میں بلوچ فرزندوں نے اپنے سرزمین کی حفاظت کیلئے اپنے جانوں کا نزرانہ پیش کرکے آخری دم تک اس سرزمین کی بقا کیلئے لڑتے رہے ہیں۔ جس میں پرتگیزی سے لیکر عربوں تک، انگریز سے لیکر پاکستان تک جہاں ہر لمحہ، ہر روز ایسے وطن پہاز ملتے ہیں جنہوں نے ایک لمحہ کیلئے اپنے زاتی زندگی کو نہیں چُنا بلکیں اس زمین کو پاک و پلگار بنانے کیلئے بڑے سے بڑا فیصلہ لینے کیلئے ایک منٹ تک نہیں ہچکچایا تاکہ ان کی لہو سے وہ تاریخ قائم کرکے اپنے قوم کا رہنمائی کریں۔

اس آخری جنگ میں بلوچ سپوتوں نے ایک ایسے جنگ کا آغاز کیا جس میں انہوں ایسے کرداروں کا بنیاد رکھا کہ وہ اپنے قوم کا رہنمائی کر سکیں اور اپنے دشمن کو ایسے سبق سکھائیں کہ وہ اپنے آنے والے نسلوں کو بھی بتادے کہ بلوچ قوم سے لڑنا اپنے مانند خودکشی ہے۔ جس کا آغاز استاد جنرل اسلم بلوچ نے رکھا جس میں انہوں نے اپنے بیٹے ریحان جان کو بھی ایسی تربیت دے رکھا تھا کہ وہ استاد کی طرح سوچھے اور استاد کے کاندھوں پر جو زمہ داری تھا اسے اپنے کاندھوں پر لے۔
ریحان جان نے جس قربانی کے فلسفہ کو اپنے کاندھے پر لیا کہ جسکی کوئی مثال تحریکوں میں کم ملتا ہے تو اس فلسفے کو لیکر بلوچ فرزندوں نے ایک جنگ کا آغاز کیا جس کے ابتدا ہوتے ہی دشمن نے خود اپنا شکست تسلیم کیا اور سنگتوں نے اسے کاندھا دیکر ایک نئے موڈ کی جانب رواں ہوئے جہاں آج ہزاروں بلوچ پرزند اپنے سینے پر بارود باندھ کر اس فلسفے کو آگے لیجانے کیلئے ہر وقت تیار بھیٹے ہیں۔

میرا خوش قسمتی ہے کہ میں نے ان دوستوں کے ساتھ وقت بِتایا جن میں سے ایک فدائی بہار عرف کاروان ہے جس سے میں کئی وقت پہلے ملا تھا جو نہ جانے کون سے خیالوں میں بیٹھتا رہتا تھا لیکن کچھ سال گزرنے کے کے بعد ایک روز میں سفر سے واپس اوتاگ کی جانب رواں تھا جہاں پُہچنے سے پہلے ایک سنگت ہمارے راستے پر کچھ لکڑیا جمع کررہا تھا وہاں پہنچتے ہی سلام دعا ہونے کے بعد ہمیں اپنے کلّی دیکر پانی پینے کو بولا پانی پینے کے بعد ہم تینوں سنگت اوتاگ کی جانب رواں ہوئے۔

فدائی کاروان ایک خاموش مزاج انسان تھا جو ہروقت اوتاک کے کاموں میں مصروف اور دوستوں سے ہنسی مزاق کرتا رہتا تھا۔ لیکن اس میں بہت سے خوبیوں ایک خوبی یہ تھا کہ جب سارے دوست اپنے کاموں فارغ ہوتے تو وہ دوستوں سے مجلس میں ہوتا اور تنظیمی کاموں کے متعلق بحث مباحث کرتا رہتا اور کبھی بھی ایک دوست کو چھوٹی سی تکلیف ہوتی تو وہ وہاں موجود ہوتے۔

ان بحث مباحثوں میں بات چیت کے دوراں ہم اکثر تنظیمی ڈسپلن، پالیسی، مستقل مزاجی اور دیگر ضروری چیزوں کے متعلق بات کرتے تو یوں باتوں سے میرے اور فدائی کاروان کے درمیان جلدی نزدیکی پیدا ہوئی اور راتوں کو بھیٹے بحث مباحثیں کرتے۔

ایک روز جب ہم دونوں بات کرتے کرتے کچھ لکڑیا اکھٹا کرنے گئے تو وہاں ہم نے بہت دیر سے باتیں کی ہنسی مزاق کیا ایک دوسرے پر خوف ہنسنے کے بعد وہ اچانک خاموش ہوگیا اور کچھ دیر بعد کہنے لگا “ یار اس جنگ نے ہم سے بہت کچھ چھین لیا ہے، ہمارے ماؤں نے بہت سے سڑکوں کا معانہ کیا ہے، ہمارے بہنوں نے بہت سے دفتروں کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے، ہمارے بھائیوں نے بہت سے اذیت سہا ہے اور ہمارے قوم نے غلامی کی زنجیروں کو جھیلا ہے لیکن ایک بات بولتا ہوں اب بہت ہوگیا اب ہم سب کو ایسے پُرعزم ہونا ہے ان کا بدلہ ہم اس ریاست سے پوچھیں اور اسے بتادیں کہ ہم اپنے ہمّت اور حوصلوں سے کیا کیا کر سکتے ہیں”

اس کے بعد ہم دونوں خاموشی سے اوتاگ کی جانب روان ہوئے اور اس کے بعد جب ہمارا سرکل شروع ہوتا تو اس وقت کا سب سے پہلا سوال کاروان کا ہوتا اور اکثر وہ مجھ سے سوال کرتا،
تنظیم کیسے بنتے ہیں؟
تنظیموں کی ضرورت کیا ہے؟
ہم آج مختلف تنظیموں میں کیوں ہیں؟
اس وقت کے سب سے ضروری کام کیا ہیں کہ ہم ان پر زیادہ ترجیع دیں؟
مجھ جیسے ناچیز اپنے بکھرے لفظوں کے ساتھ بتا دیتا اور کبھی کبھی دوسرے دوستوں سے پوچھ کر پھر انہی چیزوں سے آگاہ کرتا اور یوں چلتے ایک دن میں کچھ دوستوں کے ساتھ ایک کام کے سلسلے میں نکل پڑا اور اسی دن کے بعد ہم دونوں کا ملنا نہ ہوا.
4 جنوری کو ایک دوست نٹورک سے واپس آیا تھا تو نیوز پر ایک ہی چیز دیکھائی دیا کہ تربت کے مقام بھمن میں ایک حملہ ہوا ہے جس میں پاکستانی فوج کے 47 سپاہی ہلاک اور 37 زخمی ہوئے ہیں۔
دوسرے دن جب میں نٹورک گیا تو دیکھا ایک ورنا اپنے کاندھوں پر AK47 لاد کر اور بلوچستان کا بیرک اپنے گلے پر لگا کر ہنستے ہوئے دیکھائی دے رہا ہے اس کے بعد بی ایل اے کا ایک پیغام دیکھنے کو ملا جہاں انہوں نے اس فدائی حملے کو قبول کرکے اسے مجید برگیڈ کا مشن قرار دیا تھا اور اس مشن کو سرانجام دینے والا وہی کاروان تھا جو آج اپنے قوم کیلئے بہار بن چکا تھا۔ مجھ جیسے ناچیز کو کیا پتہ تھا کہ وہ جو سارا وقت سوال پوچھتا تھا اسے بہت پہلے سب کچھ معلوم تھا اور ہم جیسے ناچیز کو سمجھانے کیلئے یہ سوال کرتا رہتا اور وہ انہیں سرانجام دینے کیلئے تیار بیٹھا تھا۔

فدائی کاروان جو ہروقت قوم کیلئے فکرمند نوجوان تھا جس نے سب کچھ اپنے آنکھوں سے دیکھ کر، سب کچھ معانہ کرکے اور سب کچھ سامنے کرکے ایک فیصلہ لیا تھا کہ جس فیصلے میں انہوں نے اپنا لہو بہا کر ایک فلسفے کو زندہ رکھا جو ہم سب کا رہنمائی بلوچستان کی آذادی تک کرتے رہیں گے اور ہم سب کو ہمت و حوصلہ دیتے رہیں گے۔ پہل کرنا دوست مجھ جیسے ناچیز کے قلم میں اتنا طاقت نہیں اور نہ ہی اتنے لفظ ہیں کہ وہ آپ جیسے فرزندوں کے عظیم قربانی کے بارے میں لکھ سکیں اور نہ ہی آپ کی قربانی ہمارے لفظوں کا محتاج ہے لیکن پھر بھی آپ جیسے رہنما دوستوں سے ملنے کے بعد کچھ ٹوٹے ہوئے لفظ ہوتے ہیں جو نہ لکھنے پر بھی چین سے بھیٹنے نہیں دیں گے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔