ڈاکٹر ماہ رنگ صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک نظریہ، سوچ اور فکر ہے۔بہن کا دھرنے سے خطاب

417

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بہن، نادیہ بلوچ نے چلتن کے دامن میں دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے اپنی بہن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا مقدمہ اس کے راج کے سامنے رکھا ہے۔ ہمیں پاکستان کے عدالتی نظام اور بین الاقوامی اداروں سے کوئی امید نہیں کیونکہ اس سے قبل ہمیں ہمارے والد کی لاش دی گئی مگر پاکستان کا عدالتی نظام اور بین الاقوامی ادارے ہمیں انصاف مہیا نہ کر سکے۔

انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر ماہ رنگ صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک نظریہ، سوچ اور فکر ہے۔ آج وہ نظریہ اور سوچ قید کر دی گئی ہے۔ لیکن ہمیں اپنی قوم اور اپنے لوگوں پر فخر ہے جو ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی آواز بنے ہوئے ہیں۔ آپ لوگ خاموش نہ رہیں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے لیے آواز اٹھائیں کیونکہ وہ اس قوم کی رہنمائی کرنے والی ہے۔ اس نے ظلم کے خلاف آواز بلند کی اور ظالموں کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہوئی۔ آج انہیں آپ کی آواز کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبرگ بلوچ، شاہ جی اور بیبو کے لیے آواز اٹھائیں۔

انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر ماہ رنگ صرف ہماری بہن یا اپنی ماں کی بیٹی نہیں بلکہ وہ پوری قوم کی رہنمائی کرنے والی راہشون ہے۔ اگر وہ صرف اپنے خاندان کی فکر کرتی تو ہم اسے روک سکتے تھے، لیکن انہوں نے اپنی پرآسائش زندگی اپنی قوم کے لیے قربان کر دی اور وہ پوری قوم کی آواز بن گئیں۔ آج بھی ریاست انہیں جیل میں توڑنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے لیکن وہ سر جھکانے کے لیے تیار نہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ “میری قوم میرے ساتھ کھڑی ہے، آپ لوگ بھی ظلم کے سامنے سرنگوں نہ ہوں۔”

مزید کہاکہ میں مکران سے سیستان تک سب لوگوں کی شکر گزار ہوں کہ وہ سڑکوں پر نکلے۔ میں سردار اختر مینگل کا بھی شکر گزار ہوں کہ وہ اپنی قوم کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہمیں یکجا ہونا ہے کیونکہ ہماری بقا ہماری یکجہتی میں ہے۔