لواحقین نے ظہیر بلوچ کی جبری گمشدگی کے دس سال مکمل ہونے پر سیمینار منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پنجگور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ظہیر بلوچ کے اہلخانہ کا کہنا تھا کہ جبری گمشدگی ایک غیر آئینی اور غیر قانونی عمل ہے جس میں حکومتی ادارے بغیر کسی قانونی جواز کے راتوں کے پہر گھروں میں گھس کر چادر و چار دیواری کی پامالی کرتے ہیں اور پورے خاندان کو اذیت میں مبتلا کرتے ہیں پھر وہ قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کئی سالوں تک ہمارے پیاروں کو جبری گمشدہ کر دیتے ہیں جو خود پاکستان کے آئین کی بدترین خلاف ورزی ہے۔
ظہیر بلوچ کی بیٹی نے اس موقع پر کہا کہ میرے والد جنہیں 13 اپریل 2015 کو ریاستی اداروں نے حب چوکی سے جبراً لاپتہ کیا تھا ان کی جبری گمشدگی کو آج دس سال کا طویل عرصہ مکمل ہو چکا ہے اور ہمیں یہ نہیں معلوم کہ وہ کہاں اور کس حالت میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان دس سالوں میں ہم نے بطور لواحقین جو قانونی اقدامات کیے، ہم نے حب اور پنجگور میں احتجاج ریکارڈ کرایا، کوئٹہ گئے اور اپنا کیس درج کرایا، اسلام آباد تک اپنے والد کی جبری گمشدگی کے خلاف آواز بلند کی لیکن دس سال کے گزرنے کے باوجود میرے والد کی کوئی خیر خبر نہیں آئی۔
لواحقین نے کہا کہ ہم نے ان دس سالوں میں اپنی زندگی نہایت کرب میں گزاری ہے جسے بیان کرنے کے لیے ہمارے پاس مناسب الفاظ نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگیاں ایک ایسا غیر انسانی اور تکلیف دہ عمل ہیں کہ اس میں صرف ایک انسان لاپتہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھ اس کی خوشیاں، اپنوں کے ساتھ گذارے ہوئے لمحے اور زندگی کے خوشی کے لمحات سب دھندلا جاتے ہیں اور ایک طویل اور نہ ختم ہونے والا غم و تکلیف کا رشتہ باقی رہ جاتا ہے۔
انہوں نے کہا ریاست یا اس کے اداروں کو شاید اس بات کا احساس نہیں کہ ان کے اس غیر انسانی عمل سے کتنے لوگوں کی آہیں اور غم ان کے نام ہو چکے ہیں۔
لواحقین کے مطابق ہماری عیدیں اب عیدیں نہیں رہیں یہ خوشیوں بھرے دن ہمارے لیے مزید غموں کا باعث بنتے ہیں ہم باقی لوگوں کو ان کی خوشیوں میں دیکھ کر رشک محسوس کرتے ہیں کہ کاش یہ خوشی ہم بھی ساتھ مناتے لیکن جس گھر کا چراغ بجھ جائے وہاں روشنی کیسے ممکن ہو سکتی ہے؟ میرے والد ہمارے خوشیوں کے چراغ تھے جنہیں ریاست نے بجھا دیا ہے اور ہمیں ایسی کیفیت میں رکھا ہے کہ ہم یہ فیصلہ نہیں کر پاتے کہ ہم زندہ ہیں یا مردہ۔
ظہیر بلوچ کی بیٹی نے کہا کہ چونکہ میرے والد کی جبری گمشدگی کو 13 اپریل 2025 کو دس سال مکمل ہونے والے ہیں ہم اس پریس کانفرنس کے ذریعے اعلان کرتے ہیں کہ ہم اپنے والد کی جبری گمشدگی پر 13 اپریل 2025 کو ایک سیمینار منعقد کریں گے۔
انہوں نے آخر میں کہا ہے کہ سیمینار کی جگہ اور وقت کا اعلان ہم آئندہ آنے والے دنوں میں کریں گے۔