پسنی، پنجگور: ڈاکٹر ماہ رنگ، شاہ جی اور دیگر قیادت کی گرفتاری کے خلاف احتجاج

156

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے تنظیم کے مرکزی قائد ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبو بلوچ،صبغت اللہ شاہ، بیبگر بلوچ سمیت دوسرے کارکنان کی گرفتاری کے خلاف پسنی میں ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔

ریلی پسنی کے نیادی سر سے نکالی گئی جو مین بازار میں گشت کرتی ہوئی پسنی پریس کلب تک گئی جہاں مظاہرین نے ڈاکٹر مہرنگ بلوچ اور دوسرے سیاسی کارکنان کی رہائی اور بازیابی کا مطالبہ کیا۔

مظاہرہ میں شریک خواتین اور بچوں نے اپنے ہاتھوں پلے کارڈ اُٹھا رکھے تھے جن پر نعرے درج تھے۔

مظاہرین نے اپنے خطاب میں کہا کہ سرفراز بگٹی کی سربراہی میں قائم بلوچستان حکومت نے بلوچ عوام اور بلوچ خواتین پر ظلم اور بربریت اپنا رکھی ہے اور ملکی قانون کو اپنے زاتی ضد اور کینہ کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے یوں لگتا ہے بلوچستان کی پارلیمنٹ میں بلوچ نہیں بیٹھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پسنی میں ہماری ریلی کو ناکام بنانے کے لیے انتہائی بچکانہ عمل کیا گیا۔پولیس کی سربراہی میں پسنی کے ایکوسسٹم والوں کو ڈرایا دھمکایا گیا کہ وہ بی وائی سی والوں کو اسپیکر نہ دیں تاکہ وہ تقریر نہ کرسکیں اور حکومت کی سیاہ کاریوں کو عوام کے سامنے نہ لائیں لیکن ہم اُنھیں واضح طور پر بتادینا چاہتے ہیں کہ وہ ہماری آواز کو نہیں دبا سکتے ہیں آپ ہمیں ماریں گے اور مزید باہر نکلیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بی وائی سی کے مرکزی قائدین کو گرفتار کرنا حکومت کی شکست ہے اور بلوچ قوم اپنی یکجہتی سے اُنھیں ہمیشہ یہ شکست دیتی رہے گی۔

مظاہرین سے بی این پی پسنی کے شیخ آحمد بلوچ ،حق دو تحریک کے عزیز اسماعیل اور ناکو ناصر سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔

اسی طرح ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، شاہ جی صبغت اللہ، بیبو بلوچ، بیبگر بلوچ اور دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے سوردو کے مقام پر احتجاجی ریلی اور مظاہرہ کیا گیا جس میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

احتجاجی ریلی سوردو سے شروع ہوکر کلیم اللہ چوک پر ایک احتجاجی مظاہرے کی شکل اختیار کر گئی۔ مظاہرے سے فہد آصف، محمد بلوچ، ادیبہ ظہیر، خدیجہ بلوچ، لاپتہ عبدالماجد کے اہل خانہ، امام الدین کے اہل خانہ، ضیانور کے اہل خانہ، زوہیہ ظہیر، بانک فاطمہ بلوچ، ماہ نور بلوچ اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔

مقررین نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر لاپتہ افراد کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔ احتجاجی مظاہرہ پُرامن طور پر اختتام پذیر ہو گیا۔