پاکستان کو ایک دہائی بعد سب سے زیادہ عسکریت پسندوں کے حملوں کا سامنا – رپورٹ

620

ایک تحقیقی ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں رواں سال ماہ رمضان کے دوران ایک دہائی میں سب سے زیادہ عسکریت پسندوں کے حملے دیکھنے میں آئے ہیں۔

ماضی میں بعض عسکریت پسند گروہ ماہ رمضان کے دوران حملے روک دیتے تھے، لیکن حالیہ برسوں میں ملک میں مجموعی طور پر تشدد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں 2025 کے ماہ رمضان کے دوران کم از کم 84 حملے ریکارڈ کیے گئے۔ جب کہ اس کے برعکس گذشتہ سال (2024 کے) رمضان کے دوران 26 حملے رپورٹ کیے گئے تھے۔

تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے نومبر 2022 میں حکومت کے ساتھ یک طرفہ طور پر جنگ بندی ختم کر دی تھی، جبکہ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے منظم حملے کرنے کی اپنی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے۔

ان دونوں عوامل نے پاکستان میں تشدد میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

بلوچ لبریشن آرمی 11 مارچ کو بلوچستان میں ٹرین ہائی جیکنگ کی ذمہ دار تھی، جس میں دو سو زائد پاکستانی فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے۔

ایک اور تحقیقی ادارے پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے مطابق، رمضان کے پہلے تین ہفتوں میں61 حملے ریکارڈ کیے گئے۔ اس ادارے نے بتایا کہ گذشتہ سال ماہ رمضان میں مجموعی طور پر60 حملے ہوئے تھے۔

اس تحقیق کے مطابق، یہ ایک دہائی میں پاکستانی فورسز کے لیے سب سے زیادہ مہلک رمضان ثابت ہوا، جس میں دو مارچ سے 20 مارچ کے درمیان 56 اہلکار ہلاک ہوگئے۔

ادارے کے مینیجنگ ڈائریکٹر عبداللہ خان کے مطابق ملک میں عسکریت پسند سرگرمیوں میں مجموعی طور پر اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’مختلف گروہوں کے درمیان اتحاد قائم ہو رہا ہے۔ بلوچ دھڑے آپس میں مل رہے ہیں۔ شمال مغربی علاقوں میں حافظ گل بہادر گروپ، پاکستانی طالبان سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو رہا ہے اور ان کے ساتھ مقابلہ کر رہا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ لشکرِ اسلام جیسی کالعدم تنظیمیں بھی دوبارہ فعال ہو رہی ہیں، جو خیبر پختونخوا کے شمال مغربی علاقوں میں سرگرم ہیں۔

خیال رہے گذشتہ مہینے بلوچ لبریشن آرمی نے دو بڑی نوعیت کی کاروائیاں کی جس میں جعفر ایکسپریس کو ہائی جیک کرکے پاکستانی فوجی اہلکاروں کو یرغمال بنانا اور محض چھ روز بعد نوشکی میں پاکستانی فوج کے قافلے میں شامل بسوں کو نشانہ بنانا شامل ہیں۔

یہ کاروائیاں بی ایل اے کی مجید برگیڈ نے سرانجام دی جبکہ تنظیم کے خصوصی دستے فتح اسکواڈ اور اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشنز اسکواڈ سمیت انٹیلی جنس ونگ “زراب” کی کمک حاصل رہی۔

مزید برآں بلوچ مسلح تنظیموں کے اتحاد بلوچ راجی آجوئی سنگر “(براس” نے 27 مارچ کی مناسبت سے بلوچستان میں 88 کاروائیاں کی جن میں پاکستانی فوج، نیم فوجی دستوں، ڈیتھ اسکواڈ ارکان، معدنیات لیجانے والی گاڑیوں و گیس پائپ لائنوں پر حملے کیئے گئے جبکہ متعدد مقامات پر شاہراہوں پر ناکہ بندی کی گئی۔