سردار اختر جان مینگل نے لکپاس دھرنا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ کو دہشت گرد کہنے والوں کو ماں کے پیاروں کو لاپتہ کرنے و ظلم کرنے پر رحم نہیں آیا۔ بہن کے بھائی، ماں کا بیٹا، کسی کا باپ لاپتہ کیاگیا، پھر بھی گناہگار بلوچ ہے۔
انہوں نے کہا دہشت کے ماحول میں پیدا اور بڑا ہونے والے کیسا ہوگا۔ سب جانتے ہیکہ لاپتہ کرنے والے اغواء کار کون ہے۔ ماوں کے پیاروں کو لاپتہ کرنے پر بددعائیں ضرور ملیں گے۔انہوں نے کہا ملک کو اسلام اور کلمہ پر بنایا گیا۔ مگر اسلامی ملک میں مسجد، امام بارگاہ و چرچ محفوظ نہیں۔ بنگالیوں کے ساتھ ایسا رویہ اپنایا گیا۔ بنگال کے اعلٰی تعلیم یافتہ افراد کو گرفتار و قتل کیاگیا، آخر خواتین پر ہاتھ ڈالی گئی۔
سردار اختر مینگل نے کہا بلوچستان میں اب بلوچ کے غیرت خواتین کو گرفتار کیا جارہا ہے۔ یہ رویہ ناقابل قبول ناقابل برداشت ہے، بلوچ نسل کشی کو اجاگر کرنے پر کہتے ہیکہ سیاست چمکایا جارہا ہے، اب مسلہ بلوچ کی ننگ و ناموس کا ہے۔ خواتین کو فوری رہا کیا جائے۔
انہوں نے کہا مذاکرات کے لئے بےاختیار وفد آیا تھا۔ ہم نے دو دن کا مہلت دیا ہے۔ سندھ حکومت نے غیرت کیا سمی دین کو رہا کردیا۔ بےاختیار بلوچستان حکومت کہی اور دیکھ رہا ہے۔
سردار نے کہا بلوچستان کو مفتوحہ علاقہ اور غلام سمجھتے ہے اس لئے یہاں کوئی قانون نہیں۔ کل تک خواتین کو رہا نہیں کیاگیا تو راستے سے کنٹینر ہٹا دینگے، خواتین و بچوں کے ساتھ مل کر کوئٹہ لانگ مارچ کرینگے، آج کے جلسے میں ہزاروں مرد و خواتین شامل ہے۔