مزاحمت کی علامت: بلوچ نڈر بیٹیاں
تحریر: عبدالواجد بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
جب بلوچستان کی تاریخ ایک مرتبہ پھر لکھی جائے گی تو اس میں مزاحمت کے کئی درخشندہ باب ہوں گے، وہ مزاحمت جو ہر سطح پر کی گئی، وہ مزاحمت جس میں کسی دین اور مذہب کی تفریق نہیں، لیکن جو رواں دواں ہے۔ یاد رکھیں، بلوچستان میں مزاحمت کا یہ باب قربانیوں سے عبارت ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب بلوچستان کی تاریخ بن رہی ہے، ایک طرف ظالم کا استبداد ہے اور دوسری طرف جذبۂ حریت۔ یقیناً نظریہ و جذبوں سے لیس اس مزاحمت کو کوئی بھی فاشسٹ روک نہیں سکتا۔
معزز قارئین، میں لاپتہ، تشدد زدہ، اپنے پیاروں کو تلاش کرنے والے خاندانوں اور بلوچستان میں ریاستی جبر کے خلاف مزاحمت کرنے والے دلیر لوگوں کے لیے بات کرتا ہوں۔
کئی دہائیوں سے بلوچ قوم اغوا، ماورائے عدالت قتل اور ان کی آوازوں پر ریاست کی جانب سے مسلسل حملے اور ریاستی وحشیانہ پن کی لہر کا شکار ہے۔ پاکستانی حکومت “مارو اور غائب کرو” کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ نوجوان مرد، کارکن اور دانشور بغیر کسی جرم کے فقط بلوچ ہونے کی پاداش میں غائب کیے جاتے ہیں، اور صرف دنوں، ہفتوں یا مہینوں بعد ویران علاقوں میں مسخ شدہ لاشوں کے طور پر پائے جاتے ہیں۔
انسانی حقوق کے بین الاقوامی معاہدوں کے باوجود، ریاست پاکستان نے بلوچ قوم کے اغوا اور قتل کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ڈاکٹر مہرنگ بلوچ اور ان کی ٹیم، جو ہمت کے ساتھ لاپتہ افراد کی واپسی اور بلوچستان میں جاری ریاستی وحشیانہ پن کے خلاف احتجاجی مظاہرے کر رہی ہے، آج خود بھی ظلم و ستم کا شکار ہے۔ ریاست ان کے مطالبات سننے کے بجائے دھمکیوں، گرفتاریوں اور تشدد سے جواب دیتی ہے۔ جب کوئی ریاست انصاف مانگنے والوں کو سزا دیتی ہے تو وہ اپنا اصل چہرہ دکھاتی ہے۔ ظلم اور لاقانونیت کا چہرہ۔ لیکن بلوچ اور پاکستان کا رشتہ قابض و مقبوضہ کا ہے۔
یہ چند سیکیورٹی فورسز کا کام نہیں۔ یہ پورے بلوچ قوم کو خاموش کرنے کے لیے ایک منظم ریاستی مہم ہے۔ ریاست بین الاقوامی دباؤ کو نظر انداز کرتی ہے اور انسانی حقوق کو ایک غیر اہم مسئلہ سمجھتی ہے۔ بلوچستان میں عدالتیں بے اختیار ہیں، اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو بار بار ایسے اداروں سے مدد مانگنی پڑتی ہے جو انہیں پہلے ہی ناکام کر چکے ہیں۔
ہمیں پوچھنا ہے: یہ کب تک جاری رہے گا؟ دنیا کب تک منہ دیکھتی رہے گی؟ بلوچ سیاسی کارکنوں، طالب علموں، صحافیوں اور حتیٰ کہ بولنے کا حوصلہ رکھنے والی خواتین پر منظم ظلم و ستم سچ کے خلاف جنگ سے کم نہیں۔
میں عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی میڈیا سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ مزید خاموش نہ رہیں۔ بلوچستان کے لوگوں کو ترس کی ضرورت نہیں، انہیں انصاف چاہیے۔
اقتدار میں رہنے والوں سے میں واضح طور پر کہتا ہوں: تاریخ بتاتی ہے کہ کوئی آمریت، کوئی دہشت گردی کا راج، اور ظلم کا کوئی نظام ہمیشہ کے لیے نہیں رہتا۔ جن آوازوں کو آپ آج خاموش کر رہے ہیں، وہ آنے والی نسلوں تک سنائی دیں گی، اور آخر کار، انصاف ہی غالب رہے گا، چاہے اس میں کتنا ہی وقت لگے۔
بلوچستان کے لوگوں اور ڈاکٹر مہرنگ بلوچ جیسے دلیر انسانی حقوق کے محافظوں کی جدوجہد کو میں سلام پیش کرتا ہوں، کیونکہ ان کی یہ جدوجہد انصاف کی جدوجہد ہے، اور ان کی یہ ہمت تمام مظلوموں کے لیے امید کی کرن ہے۔ دنیا کو ان کے ساتھ ہونا چاہیے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔