ماہ رنگ، سمی،بیبو بلوچ: جبر کے اندھیروں میں روشنی کی علامت ۔ رامین بلوچ

288

ماہ رنگ، سمی،بیبو بلوچ: جبر کے اندھیروں میں روشنی کی علامت
تحریر: رامین بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ

بلوچ قومی جدوجہد کی تاریخ بے شمار ناموں سے سرخ ہے،، مگر کچھ افراد اپنی جدوجہد،حوصلہ، جرائت، عزم اورقربانیوں سے مزاحمت کی ایسی اساطیر بن جاتے ہیں کہ وہ خود ایک تحریک کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔۔ ماہ رنگ بلوچ، سمی دین بلوچ اور بیبو بلوچ بھی انہی عظیم فہرست میں شامل ہیں، جو جنگی جرائم،جبری گمشدگیوں اور جعلی مقابلوں میں شہید کئے جانے والے بلوچ فرزندوں پر ہونے والے ریاستی جبر، کے خلاف بے خوفی سے ڈٹی رہیں۔ان کی جدوجہد بلوچ قوم کی دلوں میں میں آزادی، انصاف اور امن کی امید جگاتی ہے اور مزاحمت کے جذبے کو زندہ رکھتی ہے ۔

ماہ رنگ بلوچ کو پہلی بار میڈیا کے سکرین پر اس وقت دیکھا گیا، جب وہ اپنے والد کی جبری گمشدگی کے خلاف احتجاج کرتی ہوئی ریاستی جبر پر ماتم کناں تھی۔ کم عمری میں ہی اس نے وہ تلخ حقیقتیں جھیلیں جو کسی بھی مقبوضہ سماج میں معمول، قابلِ تصوراور ناگزیر ہوتے ہیں۔
ماہ رنگ بلوچ، جو کم عمری میں ہی ایک اذیت ناک حقیقت سے روشناس ہوئی،۔ اس کے لیے بچپن کے دن گڑیوں، کہانیوں، اور خوابوں کی رنگین دنیا کا حصہ نہیں بنے، بلکہ وہ اپنی پہلی پہچان ایک احتجاجی بینر کے سائے میں، نعرے لگاتے ہوئے، اور اپنے والد کی جبری گمشدگی کے خلاف سینہ سپر ہوتے ہوئے حاصل کرتی رہی۔ اس کا المیہ ان لاکھوں بچوں کے المیے کی عکاسی کرتا ہے جو کسی بھی مقبوضہ سماج میں ظلم، ناانصافی، اور خوف کے سائے میں پرورش پاتے ہیں۔

مقبوضہ سماجوں میں بچپن ایک پرتعیش خواب بن کر رہ جاتا ہے۔ وہ زمین جہاں شناخت کو طاقت کی بھینٹ چڑھایا جاتا ہے، وہاں بچوں کے ہاتھوں میں کتابوں کے بجائے احتجاجی پلے کارڈز ہوتے ہیں، اور ان کے ذہنوں میں کہانیوں کی جگہ گمشدہ بلوچ فرزندوں کی یادیں بسی ہوتی ہیں۔ ماہ رنگ بلوچ کا معاملہ کسی انفرادی سانحے سے زیادہ ایک اجتماعی حقیقت کی نمائندگی کرتا ہے —ایک ایسا سماج جہاں سوال اٹھانا، حقوق کی بات کرنا، یا کسی گمشدہ پیارے کی بازیابی کا مطالبہ کرنا جرم تصور کیا جاتا ہے۔دنیا کے نقشے پر کچھ سرزمینیں صرف جغرافیائی حدود میں مقید نہیں ہوتیں، بلکہ ان کے باسیوں کی قسمت بھی زنجیروں میں جکڑی ہوتی ہے۔ ایسے معاشروں میں، جہاں شناخت ایک جرم بن جائے اور سوال اٹھانے کی سزا موت یا گمشدگی ہو، وہاں ماہ رنگ بلوچ جیسی بیٹیاں جنم لیتی ہیں۔

یہ حقیقت بلوچستان جیسے متنازعہ اور ریاستی جبر کی شکار خطوں میں کھل کر سامنے آتی ہے۔ جبری گمشدگیاں یہاں ایک ایسا المیہ بن چکی ہیں جو نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے۔ ماہ رنگ کی نسل وہ نسل ہے جس نے اپنے والدین کو یا تو ریاستی عقوبت خانوں میں کھو دیا، یا ان کی لاشیں اجتماعی قبروں سے برآمد ہوئیں، یا پھر وہ ہمیشہ کے لیے “جبری گمشدہ” قرار دے دیے گئے —ایسا غیر یقینی المیہ جس کی اذیت موت سے بھی بدتر ہوتی ہے۔

ماہ رنگ بلوچ۔سمی دین، بیبو بلوچ، گل زادی، ڈاکٹر شلی بلوچ، ڈاکٹر صبیحہ بلوچ،سعیدہ فیصل بلوچ، سیما بلوچ جیسی بہنوں کی مزاحمتی تحریک اور ذاکر جان، و راشد کی ماں سمیت ہزاروں بلوچ خواتین کی جدوجہدمحض جبری گمشدہ افرادکی بازیابی کے لیے نہیں بلکہ نوآبادیاتی ریاستی ڈھانچے کے خلاف ایک مکمل تحریک کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ تحریک کسی محدود اصلاحی مطالبہ یا کوئی جز وقتی حقوق کے لئے نہیں بلکہ اس پورے استحصالی نظام، ریاستی جبر، انسانی حقوق کی پامالی، اور قومی غلامی کے خلاف ہیں۔ جہاں کسی قوم کی ان کی زمین پر اجنبی غلامی، مہاجرت کی زندگی گزارنے پر مجبور کیاجائے، جہاں سیاسی جدوجہد پر پابند ی ہو، اظہار رائے کی آزادی مسدود ہو تو اس قسم کے نوآبادیاتی ذہنیت کے کے خلاف مزاحمت محض ایک سیاسی ردعمل کا نہیں ہوتا۔ بلکہ اس قومی مزاحمتی تحریک کے پس پشت جبر وبربریت کی وہ اجتماعی یاداشت ہوتی ہے جو مقبوضہ قوم کے شعور کو بیدار کرکے اسے آزادی کی جدوجہد کی راہ پر گامزن کردیتی ہے۔

بلوچ وطن میں جاری مذاحمت بھی اسی تاریخی جبر اور مسلسل ریاستی بربریت کا فطری ردعمل ہے۔ جہاں عقوبت خانوں میں گمشدہ نوجوانوں کی چیخیں، مسخ شدہ لاشیں، لوٹے گئے وسائل اور کچلے گئے انسانی حقوق ایک اجتماعی تجربہ کے طور پر یہ اذیت ناک یاداشتیں نسل در نسل منتقل ہوکر قومی مزاحمت کا حصہ بن جاتی ہے۔بلوچ مزاحمت کوئی وقتی رد عمل نہیں بلکہ تاریخی تسلسل کا اٹوٹ حصہ ہے، جہاں ہر ظلم تحریک کو تازہ دم کرتاہے اور ہر شہادت جدوجہد کو توانائی بخشتی ہے۔

بلوچ قوم کے لے مزاحمت بقاء اور آزادی کی جنگ ہے کیونکہ بلوچ ہزاروں سال سے نہ کسی حملہ آور کی خیر سگالی کی اور نہ ہی غلامی کے سائے میں زندگی گزارکر اپنی آزادکی پر سمجھوتہ کیا۔

بلکل اسی طرح ماہ رنگ بلوچ صرف اپنے والد کے لیے ریاستی حراست میں شہادت یا اپنے بھائی کی جبری گمشدگی کے خلاف نہیں اٹھیں، بلکہ ان تمام جبری گمشدہ افراد کے لیے آواز اٹھا رہی تھی، جو اپنے قومی حق ملکیت، آزادی اور انصاف کے لئے جدوجہد کررہے تھے، وہ محض عام فرد نہیں بلکہ بلوچ سیاسی کارکناں ہیں۔ انہیں مجرمانہ حیثیت میں پیش کرنا یا دہشت گرد قرار دینانہ صرف عالمی قوانیں کی خلاف ورزی ہے بلکہ بنیادی انسانی حقوق کے بھی خلاف ہے۔ ریاست اگر انہیں حراست میں لیتی ہے تو انہیں بین الاقوامی سیاسی اور جنگی قوانین کے تحت حقوق دیے جانے چاہیں، جن میں شفاف عدالتی عمل، قانونی دفاع کا حق، ان کی سیاسی موقف کا اظہار اور انسانی وقار کے مطابق سلوک شامل ہے۔

اپنی قومی آزادی کے لے جدوجہد کو جرم قرار دینا در حقیقت نوآبادیاتی ذہنیت کی عکاسی ہے، جہاں قابض ہر بلوچ آواز کو دبانے کے لئے جبری گمشدگی تشدد، ماورائے عدالت اور ماورائے بین الاقوامی قوانین اور جنیوا کنونشن کے اصولوں کوبالائے طاق رکھتے ہوئے انہیں سالوں خفیہ ٹارچر سیلوں میں جبری گمشدگی کا نشانہ بناتاہے۔یہ مسئلہ محض انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں بلکہ قابض ریاست کی جبر و وحشت کی منظم پالیسی ہے۔جب کوئی قابض ریاست کسی فرد کو جبری گمشدہ کرتی ہے، تو در حقیقت وہ خود اپنے جرم کا اعتراف کررہی ہوتی ہے۔اس طرح کے حربے کسی ایک فرد یا خاندان کو نشانہ بنانے کا عمل نہیں،بلکہ یہ ایک قوم کی اجتماعی قومی شناخت اور اس کی آزادی کو دبانے کی کوشش ہوتی ہے۔کسی قوم کواس کی مرضی کے بغیر محکوم بنانا، اس کے وسائل پر قبضہ جمانا،اس کی آزادی سلب بذات خود ایک سنگین جرم ہے۔اس طرح کی جارحیت نہ صرف قابض ریاست غیر اخلاقی اور غیر قانونی وجود کو بے نقاب کرتے ہیں۔اس طرح کے جبر و استبداد جنگی جرائم اور انسانیت کے جرائم کے زمرے میں آتاہے اور یہی جنگی جرائم در حقیقت خود بلوچ مزاحمت کو جواز فرائم کرتے ہیں جو بلوچ قوم اپنی بقاء آزادی کے لئے لڑرہی ہے ۔ بلوچ قوم کے ہزاروں نوجوانوں کی جبری گمشدگی، جعلی مقابلوں میں شہادت اور فوجی آپریشنز کی صورت میں اجتماعی سزا کا عمل کسی بھی آزاد قوم کے خلاف کھلی جنگ کی مترادف ہے۔

بلوچ قوم کی تاریخی شناخت اور اس کی اپنی سرزمین پر حق ہزاروں سال پر محیط ہے۔ جبکہ پاکستانی ریاست کا مصنوعی اور نوآبادیاتی ڈھانچہ صرف پچھتر سال پرانا ہے۔ یہ کسی بھی صورت بلوچ قومی وجود کا متبادل نہیں ہوسکتا، جب کوئی بیرونی ریاست کسی قوم کی شناخت کو مٹانے اور اس کی آزادی کو سلب کرنے کی کوشش کرتی ہے، تو یہ ناگزیر ہوتاہے کہ وہ قوم اپنی بقاء کی جنگ لڑے۔

اگر دنیا کی دیگر مزاحمتی تحریکوں کو دیکھا جائے، جیسے کہ فلسطین میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ، یا کسی بھی آزادی کی جنگ، تو وہاں قابض قوتوں کی جانب سے جبر اور ظلم ضرور ہوا ہے، لیکن جس منظم طریقے سے پاکستانی ریاست بلوچ قوم کو جبری گمشدگیوں، جعلی مقابلوں، اور اجتماعی سزاؤں کا نشانہ بنا رہی ہے، اس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔ جنگی حالات میں بھی قیدیوں کے حقوق بین الاقوامی قوانین کے تحت تسلیم کیے جاتے ہیں، مگر پاکستان ان قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلوچ عوام کے خلاف ایک غیر اعلانیہ جنگ مسلط کیے ہوئے ہے، جس میں انسانی حقوق اور بین الاقوامی اصولوں کی کھلی پامالی کی جا رہی ہے۔

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف بلوچ خواتین کی دو دہائیوں پر محیط جدوجہد ایک ایسا ناقابلِ تردید تاریخی حقیقت بن چکی ہے، جو ریاستی جبر کے خلاف مزاحمت کی علامت ہے۔ ان خواتین نے ہر جمہوری اور آئینی طریقہ کار اپنایا—عدالتوں سے رجوع کیا، احتجاج کیے، دھرنے دیے، ریلیاں نکالیں، جلسے منعقد کیے، پریس کلبوں اور سیمیناروں میں اپنی آواز بلند کی—مگر ریاست نے نہ صرف ان کی جدوجہد کو نظر انداز کیا بلکہ ان پر مزید جبر مسلط کر کے اس تحریک کو دبانے کی کوشش کی۔

آج جو بلوچ خواتین ریاستی حراست میں ہیں، وہ محض چند افراد نہیں بلکہ اس اجتماعی غم اور کل بلوچ مزاحمت کی نمائندہ ہیں جو جبری گمشدہ افراد کے اہلِ خانہ پر گزرتی رہی ہے۔ وہ ان ماؤں کی امیدوں کا عکس ہیں جو ہاتھوں میں اپنے بیٹوں کی تصویریں اٹھائے آج بھی ان کی واپسی کی منتظر ہیں۔ وہ ان بہنوں کی آواز ہیں جن کے بھائیوں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں کہ وہ زندہ ہیں یا شہید کر دیے گئے۔ وہ ان بیواؤں کی ترجمان ہیں جن کے شوہر جبری طور پر لاپتہ کیے گئے۔ وہ ان بچوں کی آواز ہیں جو اپنے والدوں کی راہ تک رہے ہیں، مگر ان کے لوٹنے کی کوئی خبر نہیں۔ ان بہادر خواتین کی جدوجہد اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچ قوم کے اجتماعی شعور میں مزاحمت کی جو چنگاری بھڑک چکی ہے، وہ جبر کے کسی بھی طوفان سے بجھنے والی نہیں۔

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ریاستی جبر کا یہ المیہ کسی ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ پوری بلوچ قوم کا اجتماعی دکھ اور کرب بن چکا ہے۔ یہ وہ زخم ہے جو وقت کے ساتھ ناسور بنتا جا رہا ہے، اور جب تک ریاستی قبضہ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری رہیں گی، یہ جہدبھی اسی شدت کے ساتھ برقرار رہے گا۔ ہر ماں، ہر بہن، اور ہر بیٹی اس جدوجہد کا حصہ بن چکی ہے، جو اپنے پیاروں کی بازیابی اور اپنی قومی آزادی کے لیے برسرِپیکار ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ماہ رنگ کی دروشم، سمی دین کی للکار، گلزادی کی آواز، بیبو کی تلخ مسکراہٹ، اور شلی بلوچ و صبیحہ کے خطبات آج بلوچستان کے سیاسی شعور کا حصہ ہیں۔ یہ وہ آوازیں ہیں جو ریاستی جبر کے خلاف ایک نہ ختم ہونے والا احتجاج بن چکی ہیں، ایک ایسی امید کی علامت جو ممکنہ طور پر آزادی کے سورج کے ساتھ طلوع ہوگی۔

بلوچ خواتین کی صفیں آج پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔ وہ نہ صرف ریاستی جبر کا سامنا کر رہی ہیں بلکہ بہادری، حوصلے، اور ناقابلِ تسخیر جذبے کے ساتھ اس کے خلاف ڈٹی ہوئی ہیں۔ جبر جتنا بھی سخت ہو، تشدد جتنا بھی بے رحمانہ ہو، اب بلوچ قوم موت کے خوف سے، گرفتاریوں سے، اور جبری گمشدگیوں سے ڈرنے کے بجائے ان کے ساتھ جینا سیکھ چکی ہے۔ جب کوئی قوم خوف سے آزاد ہو جائے، تو اسے غلام رکھنا ممکن نہیں رہتا۔ یہی وہ حقیقت ہے جس نے بلوچ خواتین کی جدوجہد کو ایک ناقابلِ شکست قوت بنا دیا ہے، اور یہی وہ حقیقت ہے جو بالآخر آزادی کی راہ ہموار کرے گی۔
بلوچستان کی تاریخ میں ایسے لمحات بارہا آئے ہیں جب ظلم کی انتہا نے مزاحمت کو جنم دیا۔ ماہ رنگ بلوچ بھی اسی تاریخ کا تسلسل ہے —ایک ایسی کہانی جو جبر کے سائے میں پروان چڑھی، اور جس کا ہر باب استقامت اور بہادری کی نئی داستان لکھتا رہا۔ جب وہ پہلی بار میڈیا کے سامنے آئی، تو اس کے چہرے پر صرف غم کے آثار تھے، مگر جب دوسری بار دنیا نے اسے دیکھا، تو وہ کرب کی ایک اور گہری کھائی سے گزر چکی تھی۔ اس بار اسے اپنے والد کی مسخ شدہ لاش ملی تھی—ایک ایسا المیہ جو کسی بھی دل کو چیر کر رکھ دے، مگر ماہ رنگ نے خوف اور آنسوؤں کو پیچھے چھوڑ کر مزاحمت کا راستہ چُنا۔

امریکی صحافی مدیحہ طاہر کے سامنے جب اس نے اپنے والد پر گزرنے والے مظالم کی تفصیلات بیان کیں، تو اس کے الفاظ کے ساتھ اس کی خاموشی بھی گونج رہی تھی۔ وہ رو پڑنا چاہتی تھی، مگر اس کے والد کی وہی نصیحت اس کے ذہن میں گونجنے لگی: “ہمیشہ بہادر رہنا۔” یہی وہ لمحہ تھا جب اس نے اپنے غم کو جدوجہد میں ڈھالنے کا فیصلہ کیا۔
یہی بہادری اسے بولان میڈیکل کالج سے طلبہ سیاست کے میدان میں لے آئی، جہاں وہ نہ صرف بلوچستان کے تعلیمی مسائل کے خلاف آواز بلند کرتی رہی بلکہ ان سازشوں کو بھی بے نقاب کرتی رہی جو بلوچ طلبہ کے خلاف رچی جا رہی تھیں —ماہ رنگ بلوچ ہر اس محاذ پر کھڑی دکھائی دی جہاں بلوچ نوجوانوں کے حقوق سلب کیے جا رہے تھے۔

لیکن اس کی جدوجہد صرف تعلیمی مسائل تک محدود نہیں رہی۔ وہ اس مزاحمتی تحریک کا چہرہ بن چکی تھی جو بلوچ قوم کے اجتماعی شعور کا حصہ ہے۔ وہ جانتی تھی کہ ریاستی جبر کی پالیسیوں کے خلاف صرف آنسو نہیں، بلکہ ایک منظم مزاحمت کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایک عام طالبہ سے ایک سیاسی کارکن اور پھر ایک قومی مزاحمت کی علامت میں تبدیل ہو گئی۔

لیکن اس کی کہانی صرف طالبعلمی سیاست تک محدود نہیں رہی۔ جبری گمشدگیاں اور مسخ شدہ لاشیں اس کی زندگی کا ایک تسلسل تھیں، اور پھر وہ دن آیا جب اس کے چھ بہنوں کے اکلوتے بھائی کو بھی اٹھا لیا گیا۔ مگر اس بار وہ اپنے بھائی کی تشدد زدہ لاش نہیں دیکھنا چاہتی تھی، اس بار وہ اسے زندہ واپس لانے نکلی۔ کئی ماہ کی مسلسل مزاحمت اور عوامی دباؤ کے نتیجے میں آخرکار وہ اپنے بھائی ناصر غفار بلوچ کو ریاستی حراست سے بازیاب کروانے میں کامیاب ہوئی۔
ریاست کی یہ غلط فہمی کہ ماہ رنگ اپنے بھائی کی بازیابی کے بعد خاموش ہو جائے گی، ایک سطحی اندازہ تھا۔ ماہ رنگ کا قدم ایک فرد کی بازیابی کی خوائش سے کئیں زیادہ تھا،، وہ صرف اپنے بھائی کی بازیابی کے لیے نہیں نکلی تھی، بلکہ وہ ایک اجتماعی نوحے کا حصہ بن گئی تھی، جو ایک قوم کے درد، غم، اور اجتماعی جبری گمشدگیوں کی بازیابی کے لیے بلند ہو ئی۔

ماہ رنگ کا نوحہ ماتم نہیں، بلکہ ایک طاقتور للکار تھی۔ یہ وہ للکار تھی جو بلوچستان کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے دلوں میں روزانہ گونجتی تھی۔ ان خواتین کا کردار اس مزاحمت میں اہم ہے، کیونکہ یہ وہ ہیں جو نہ صرف اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے آواز اٹھاتی ہیں بلکہ اپنے قومی شناخت بے خوف ہو کر کھڑی ہوئی ہیں۔ ماہ رنگ کی جدوجہد ان تمام مظلوموں کی آواز تھی جنہیں ریاست نے نظر انداز کیا تھا، اور اس آواز میں اس طاقتور انکار کی گونج تھی جو ظلم کے سیاہ راتوں میں ایک نئی روشنی کی صورت میں ابھری۔

یہ نوحہ دراصل ایک نئی روشنی کی کرن تھا، جو اس وقت طلوع ہوئی جب بلوچ قوم نے ظلم کے خلاف یکجا ہو کر مزاحمت کا آغاز کیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب بلوچستان کے ہر فرد نے یہ فیصلہ کیا کہ اس کے ساتھ ہونے والے ظلم کا حساب لیا جائے گا، اور اس کے لیے صرف فردی جدوجہد کافی نہیں بلکہ اجتماعی طور پر مزاحمت کی ضرورت ہے۔ بلوچ قوم نے یہ ثابت کر دیا کہ جب تک وہ ریاست کے اس اجتماعی سزا کے خلاف واز نہیں اٹھائیں گے، تب تک ریاستی جبر اور ظلم کو شکست دینا ممکن نہیں۔

ماہ رنگ کی قیادت اس بات کا غماز ہے کہ کسی بھی قوم کا شعور تب ہی بیدار ہوتا ہے جب وہ اپنی اجتماعی جدوجہد میں شامل ہو کر اپنی جنگ لڑیں۔اس نے اجتماعی مزاحمت کو اپنی طاقت بنایا۔ ان کی آواز ریاستی قوتوں کے خلاف ایک چیلنج بن گئی۔ یہ وہ للکار تھی جس نے بلوچ قوم کو ایک نئے جہت میں پروان چڑھایا، جس میں نہ صرف ریاستی ظلم کے خلاف مزاحمت کا عزم تھا بلکہ اس کا ایک وسیع تر سیاسی پیغام تھا۔

ماہ رنگ بلوچ کی آواز اس حقیقت کا عکاس ہے کہ ظلم کا خاتمہ محض فردی جدوجہد سے نہیں بلکہ قوموں کی اجتماعی مزاحمت سے ممکن ہے۔ جب تک بلوچ مائیں، بہنیں اور بیٹیاں اپنے دکھ درد کو عالمی دنیا کے سامنے نہیں لائیں گی، تب تک ان کے دکھوں کا مداوا نہیں ہو سکتا۔ اس آواز نے اس بات کو واضح کیا کہ بلوچ قوم کی جنگ صرف ایک شخص یا خاندان کی نہیں، بلکہ ایک پورے خطے اور قوم کی جنگ ہے۔
ماہ رنگ کی جدوجہد ایک درخشاں مثال ہے جس نے یہ ثابت کیا کہ اجتماعی مزاحمت کی طاقت ظلم کے خلاف سب سے بڑی ہتھیار بن سکتی ہے۔ اور یہ وہ مزاحمت ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگی۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔