کوئٹہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی رہنما اور انسانی حقوق کی کارکن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ جو گزشتہ 14 روز سے اپنی دیگر ساتھیوں سمیت ریاستی حراست میں ہیں نے عید کے موقع پر بلوچستان کی عوام کے نام ایک خط تحریر کیا ہے۔
انکی یہ خط بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے جاری کیا گیا ہے اور ہدہ جیل کوئٹہ سے تحریر کیا گیا ہے، جہاں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ 3MPO کے تحت قید تنہائی میں ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے شائع ماہ رنگ بلوچ کے خط کا آغاز وہ ان الفاظ سے کرتی ہیں میرے نہ ٹوٹنے والے ہم وطنوں ہدہ جیل کے احاطہ نمبر 9 کے کوٹھی نمبر 5 سے آپ کی بہن ماہرنگ اور بیبو کی طرف سے آپ سب کو غلامی کی ایک اور عید مبارک ہو۔
ماہ رنگ بلوچ نے اپنے خط میں ریاستی جبر، سیاسی گرفتاریوں، لاپتہ افراد کے مسئلے اور بلوچ عوام پر ہونے والے مظالم پر کھل کر روشنی ڈالی ان کا کہنا ہے کہ جیل میں سب سے بڑی اذیت بلوچستان کی صورتحال سے لاعلمی ہے کیونکہ انہیں جان بوجھ کر دو دن پرانی اخبارات فراہم کی جاتی ہیں تاکہ وہ عوامی احتجاج اور مزاحمت سے بے خبر رہیں۔
اپنے خط میں ماہ رنگ بلوچ نے لکھا ہے کہ ہمیں اندازہ ہے کہ پورا بلوچستان سراپا احتجاج ہے امید اس بات سے ہے کہ ریاستی تشدد کے باوجود ہماری قوم ڈٹی ہوئی ہے اور مزاحمت کر رہی ہے۔
اپنے خط میں ماہ رنگ بلوچ نے 21 مارچ 2025 کے واقعہ کا خصوصی ذکر کیا جس میں پرامن مظاہرین پر ریاستی فورسز نے گولیاں برسائیں، جن میں 13 سالہ نعمت اللہ اور 20 سالہ حبیب بلوچ جانبحق ہوئے۔
ماہ رنگ نے ان کی میتوں پر ریاستی سلوک اور ایجنسیوں کی بدسلوکی کی تفصیل دی اور بتایا کہ ان مظالم کے خلاف مزاحمت کے نتیجے میں انہیں، بیبو بلوچ اور دیگر ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا۔
خط میں انہوں نے کہا ہے کہ میں نے اس رات اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ کو دیکھا اسکے ہاتھ کانپ رہے تھے، وہ کہہ رہا تھا پکڑو ان حرام زادیوں کو وہ بلوچ عورتوں پر لاٹھیاں برسانے کا حکم دے رہا تھا۔
ماہ رنگ بلوچ نے ریاستی اداروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ پرامن سیاسی تحریک کو کچلنے کے لیے اربوں روپے خرچ کر رہے ہیں مگر بلوچ قوم کو جھوٹے بیانیے اور میڈیا پروپیگنڈہ سے دبایا نہیں جا سکتا بی وائی سی عام عوام کی تحریک ہے، اس پر کریک ڈاؤن اور پروپیگنڈہ سے آپ اسے ناکام نہیں بلکہ زیادہ مضبوط بنا رہے ہیں۔
خط میں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تحریک اب ایک نیا مرحلہ اختیار کر چکی ہے اور ہر بلوچ مرد و عورت اس جدوجہد کا حصہ ہے 20 سال پہلے بلوچ مرد قید کیے گئے، آج بلوچ عورتیں بھی آپ کے ظلم کے نظام کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بنی ہوئی ہیں۔
خط کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ اس عید پر وہ پریس کلب میں لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے ساتھ موجود نہیں ہو سکتیں لیکن وہ جیل کی کوٹھی نمبر 5 سے خاموش احتجاج میں شریک ہیں۔