عید کے روز احتجاج کی پاداش میں ماشکیل پولیس شہریوں کو تنگ کررہی ہے۔ بی وائی سی

99

بلوچ یکجہتی کمیٹی چاغی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عید کے دن ماشکیل میں احتجاجی ریلی کے بعد عوام کو مختلف طریقوں سے پولیس کی جانب ہراساں کیا جارہا ہے ، درجنوں لوگوں پر بےبنیاد ایف آئی آر اور گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں اور ماشکیل پولیس تھانے میں اس وقت درجنوں افراد بنا کسی جرم کے بند ہے جن میں کمسن بچے بھی شامل ہے ۔

ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ ماشکیل پولیس کے عوام کو ہراساں کرنے اور جھوٹے مقدمات کے اندراج کے ذریعے بلوچوں کے خلاف جاری نسل کشی میں ریاستی اداروں کے ساتھ براہ راست ملوث ہے، اس وقت بلوچستان بھر میں بلوچ قوم اپنی تاریخ کی بدترین نسل کشی برداشت کررہی ہے ، ریاست پاکستان بلوچوں کی قومی تحریک اور ان کے پرامن احتجاجوں کو روکنے کے لیے اس وقت ہر طرح سے کام کررہی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ ریاست نے بلوچوں سے نہ صرف باوقار زندگی چھین لی ہے بلکہ پوری قوم کو خاموش کرنے کے لیے تشدد کا سہارا لیا ہیں ، بلوچ ہونے کی شناخت رکھنے پر اس وقت بلوچ قوم اپنے ہی سرزمین پر ریاست کے قہر سے محفوظ نہیں ہے، اس وقت ماشکیل میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس کو ماشکیل میں نوجوانوں اور یہاں تک کہ بچوں کو نشانہ بنانے کے لیے ہتھیار بنایا جارہا ہے جس سے ماشکیل میں ہر طرف خوف و ہراس پھیل گیا ہے ۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ہم بلوچ یکجہتی کمیٹی کی طرف سے اعلامیہ کے طور پر واضح اور دوٹوک الفاظ میں ریاست کو بتانا چاہتے ہے ، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی اس عوامی تحریک کو طاقت کے ذریعے ختم کرنا ناممکن ہے ماشکیل میں اس وقت ریاست طاقت کا استعمال کرکے بلوچ عوام کو اشتعال دلا رہی ہے جس کے بعد عوامی ردعمل کی تمام تر ذمہ داری ریاست پر عائد ہوگی۔