حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود بھائیوں کی بازیابی تاحال ممکن نہ ہوسکی۔ یاسمین حمید

97

حب چوکی سے یاسر حمید اور جنید حمید، دو بھائی جو گزشتہ سال اکتوبر سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا شکار ہیں ان کے لواحقین کی جانب سے مسلسل احتجاج اور پریس کانفرنسوں کے باوجود تاحال بازیابی عمل میں نہیں آسکی۔

متاثرہ خاندان کو حکومتی نمائندوں کی جانب سے متعدد بار یقین دہانی کرائی گئی کہ ان کے پیاروں کو جلد بازیاب کرایا جائے گا تاہم کئی ماہ گزرنے کے باوجود وہ تاحال لاپتہ ہیں۔

اس حوالے سے ان کی ہمشیرہ یاسمین حمید نے کہا جیسا کہ آپ لوگوں کو یاد ہوگا ہمارے ساتھ یہ دوسری بار معاہدہ کیا گیا ہے پہلے ہمیں 20 دن کا وقت دیا گیا تھا کہ ہمارے بھائیوں کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں گی یا انہیں بازیاب کیا جائے گا لیکن 25 دن بعد ہم نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے مزید 48 گھنٹے کا وقت دیا۔

یاسمین حمید نے کہا ہے کہ جب کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو ہم نے حب بھوانی کے مقام پر احتجاجاً سڑک بند کی مگر رمضان المبارک کے پہلے دن ہی ہم پر لاٹھی چارج کیا گیا اس کے دو دن بعد صوبائی وزیر میر علی حسن زہری اور ضلع حب کے ڈپٹی کمشنر نے دوبارہ 30 دن کے لیے مذاکرات اور معاہدہ کیا، لیکن آج وہ 30 دن بھی مکمل ہوچکے ہیں، اور ہمارے ساتھ محض مذاق کیا جارہا ہے۔

جبری لاپتہ دو بھائیوں یاسر و جنید کے ہمشیرہ نے مزید کہا ہے ہم ایک بار پھر حب انتظامیہ اور ریاستی اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے بھائیوں کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے ان معاہدوں میں واضح طور پر درج ہے کہ اگر ان پر عمل درآمد نہ ہوا تو ہمیں احتجاج کا حق حاصل ہوگا۔

واضح رہے کہ یاسر حمید جو دوسرا مرتبہ جبری گمشدگی کا نشانہ بنے ہیں انھیں گذشتہ سال 11 اکتوبر کو قلات سے انکے رشتہ داروں کے گھر سے پاکستانی فورسز نے حراست بعد اپنے ہمراہ لے گئے تھے جبکہ انکے چھوٹے بھائی جنید حمید 8 اکتوبر کو ہی لاپتہ کردیے گئے تھے۔

جنید اور یاسر حمید کے ہمشیرہ نے مزید کہا ہے کہ وہ بھائیوں کی صحت یابی کے حوالے سے پریشان ہیں اگر حکام انسے اور دیگر لاپتہ افراد کے لواحقین سے کئے گئے معاہدہ پر عمل درآمد نہیں کرتی تو وہ ایک بار پھر دھرنا دینگے اور اسکی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی۔