حملوں میں اضافے کے بعد پاکستان نے علیحدگی پسند بی ایل اے کے ساتھ بات چیت کو مسترد کر دیا

814

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے رواں ہفتے بلوچستان میں حملوں میں حالیہ اضافے کے بعد ممتاز آزادی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے ساتھ بات چیت کو مسترد کردیا۔

بی ایل اے نے پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف مہلک حملے کیے ہیں، جن میں بلوچستان میں گزشتہ ماہ ٹرین کا محاصرہ بھی شامل ہے۔ بی ایل اے کے جنگجوؤں نے مارچ میں بولان کے پہاڑی علاقے میں ایک ٹرین پر دھاوا بول دیا، جس میں سینکڑوں فوجی اہلکاروں کو یرغمال بنایا گیا۔ پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ریسکیو آپریشن میں تمام 33 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے تاہم بی ایل اے نے مجید برگیڈ کے پانچ ارکان سمیت مجموعی طور پر بی ایل اے نے 11 سرمچاروں کے مارے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے تفصیلات جاری کیئے۔

ٹرین ہائی جیک میں قیدیوں کے تبادلے یا بات چیت کے حوالے سے پیش رفت نہ ہونے پر بی ایل اے جنگجوؤں نے دو سو سے زائد فوجی اہلکاروں کو ہلاک کردیا۔

خواجہ آصف نے منگل کو نجی نیوز چینل سماء ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’پنجاب سے وہاں [بلوچستان] جانے والے مزدوروں اور چھوٹے کارکنوں کو جس طرح مارا جا رہا ہے، مجھے نہیں لگتا کہ ان [بی ایل اے] سے کوئی بات چیت ہو سکتی ہے۔

پاکستانی طالبان کی طرف سے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ (کے پی) میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں، آصف نے کہا کہ ملک کی فوج “ان سے نمٹ رہی ہے۔”

وزیر دفاع نے کہا کہ اس میں تھوڑا وقت لگے گا لیکن ہم اس بحران پر قابو پالیں گے۔

پاکستان جڑواں شورشوں سے نبردآزما ہے – ایک کے پی میں پاکستانی طالبان یا تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جیسے مذہبی طور پر متحرک گروپوں کی طرف سے اور دوسری بلوچستان میں بلوچ علیحدگی پسندوں کی طرف سے۔

معروف سکیورٹی تھنک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) نے منگل کو کہا پاکستان میں عسکریت پسندوں کے حملے نو سالوں میں پہلی بار مارچ میں 100 سے تجاوز کر گئے، یہ 2015 کے بعد سب سے زیادہ مہلک مہینہ ہے۔

تھنک ٹینک نے کہا کہ کے پی اور بلوچستان پچھلے مہینے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے تھے، حالانکہ پنجاب اور سندھ نے بھی عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں میں اضافے کا تجربہ کیا ہے۔