میرے سیاسی مؤقف کی سزا میرے والد اور خاندان کو دی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر صبیحہ بلوچ
بلوچ طالبعلم رہنما اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رکن ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے والد میر بشیر احمد کو حب سپریڈنٹ پولیس آفس لے جایا گیا ہے اور انہیں بتایا گیا ہے کہ ان کی رہائی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک میں صبیحہ بلوچ اپنی گرفتاری نہیں دیتی۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے کہا میرے والد کو کسی جرم میں نہیں بلکہ میرے سیاسی مؤقف کی بنیاد پر اٹھایا گیا ہے اور یہ قانون کا نفاذ نہیں بلکہ سیاسی بلیک میلنگ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی سرگرمیوں کے باعث ان کے خاندان کو پہلے بھی متعدد بار ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا ہے جب ریاست کسی آواز کو خاموش نہیں کر سکتی تو وہ اس کی رشتہ داروں کو نشانہ بناتی ہے۔
انہوں نے کہا ہے لیکن ریاست بھول جاتی ہے کہ نظریات ان گھروں میں نہیں رہتے جن پر چھاپے مارے جا سکتے ہیں وہ ان دلوں میں بستے ہیں جو جھکنے سے انکار کرتے ہیں اور ایسے کاروائیوں سے ہم خاموش نہیں ہوں گے۔
واضح رہے کہ آج صبح ہی بلوچستان حکومت کے ترجمان نے ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کے خلاف مبینہ ریاست مخالف تقریر کرنے پر کارروائی کا اعلان کیا تھا۔
بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے ہفتے کے روز کوئٹہ میں میڈیا کو بریفنگ میں دعوی کیا کہ صبیحہ بلوچ نے گذشتہ روز دھرنے میں صوبائی حکومت اور ریاست مخالف گفتگو کی جسے حکومت سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور اس کے خلاف کارروائی کرے گی۔
حکومت کے اس اعلان کے بعد صبیحہ بلوچ کے والد کو حراست میں لیکر ایس پی آفس منتقل کردیا گیا ہے۔