ترجمان صوبائی حکومت شاہد رند نے کہا ہے کہ ڈاکٹر صبیحہ کی ریاست مخالف تقریر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
بلوچ طلباء رہنما و بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کی گذشتہ روز بلوچستان نیشنل پارٹی کے دھرنے میں شرکت اور خطاب کے بعد حکومت نے خاتون کارکن کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے ہفتے کے روز کوئٹہ میں میڈیا کو بریفنگ میں بتایا کہ صبیحہ بلوچ نے گذشتہ روز دھرنے میں صوبائی حکومت اور ریاست مخالف گفتگو کی جسے حکومت سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور اس کے خلاف کارروائی کرے گی۔
شاہد رند نے کہا ہے کہ حکومت کسی کو بھی ریاست مخالف تقریر کی اجازت نہیں دے سکتی اور صبیحہ بلوچ کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے لکپاس کے قریب بی این پی دھرنے کے حوالے سے کہا ہے کہ اختر مینگل اگر ریڈ زون احتجاج کی ضد پر قائم رہے تو حکومت کے پاس مزید آپشن موجود ہیں۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ بی این پی ریڈ زون میں احتجاج کرنا چاہتی ہے لیکن اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ احتجاج کہاں اور کتنی دیر کے لیے ہوگا یہ انتظامیہ فیصلہ کرے گی۔
ترجمان نے کہا کہ صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ ہے، اگر خلاف ورزی کی گئی تو قانون اپنا راستہ لے گا۔ اگر اختر مینگل ریڈ زون احتجاج کی ضد پر قائم رہے تو حکومت کے پاس مزید آپشن بھی موجود ہیں۔