بی ایل اے مجید برگیڈ کے فدائی مہزام بلوچ کے ویڈیو پیغام شائع

1353

بلوچ لبریشن آرمی کے آفیشل میڈیا چینل ہکّل نے بی ایل اے مجید برگیڈ کے رکن کے ویڈیو پیغام جاری کردیئے۔ مہزام بلوچ عرف میرک نے رواں سال 16 مارچ کو نوشکی میں پاکستانی فوج کے قافلے میں شامل ایک بس کو بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے دھماکے میں نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں بس مکمل تباہ ہوگئی جبکہ اس میں سوار اہلکار ہلاک اور شدید زخمی ہوگئے۔

بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے دھماکے کے بعد بی ایل اے کے خصوصی دستے ‘فتح اسکواڈ’ نے قافلے میں دیگر بسوں کو گھات لگاکر حملے میں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک اور بس میں سوار تمام اہلکاروں کو حملہ آور ہلاک کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

بلوچ لبریشن آرمی کے مطابق اس تاریخی اور مہلک حملے میں پاکستانی فوج کے مجموعی طور پر 90 اہلکار ہلاک ہوگئے۔

 مہزام بلوچ عرف میرک مجید برگیڈ فدائی شہزاد بلوچ کے چھوٹے بھائی ہے۔ شہزاد بلوچ 2020 میں کراچی اسٹاک ایکسچینج کو نشانہ بنانے والے حملہ آوروں میں شامل تھا۔

بی ایل اے مجید برگیڈ کے فدائی مہزام بلوچ عرف میرک اپنے ویڈیو پیغام میں کہتا ہے کہ ستر سالوں سے پنجابی نے بلوچ سرزمین پر قبضہ کرکے بلوچ کو اپنا غلام بنایا ہوا ہے، اور بلوچ کی نسل کشی کررہی ہے، ان کو جبری گمشدگیوں کا نشانہ بنا رہا ہے، بلوچ کے ساحل و وسائل کی لوٹ ماری کررہا ہے، ایک طرف پاکستان کی سی ٹی ڈی اور دیگر ادارے بلوچ طلبہ، اساتذہ، کسان، ماں بہنوں کو لے جاکر ٹارچر سیلوں میں تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں، اور ان کی لاشیں جنگلوں اور ویرانوں میں پھینک رہے ہیں، پھر ان کو دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ دوسری جانب بلوچ کے ننگ و ناموس کو روندھا جارہا ہے۔ ہماری ماؤں بہنوں کو سڑکوں پر گھسیٹا جارہا ہے، میں یہی کہونگا کہ تم خود کو بلوچ، غیرت مند کہتے ہو، تو تمہاری غیرت اس وقت کہاں ہے کہ تمہاری ماؤں بہنوں، تمہاری عزت، تمہاری سرزمین کیساتھ یہ سب کچھ ہورہا ہے لیکن تم اپنی عیش و عیاشی کی زندگی میں مگن ہو، اگر تم غیرت مند ہو، بہادر ہو، تو اپنی غیرتی مندی، اپنی بہادری کو دشمن کو دکھاؤ، اس کو دکھاؤ کہ میں کتنا غیرت مند اور بہادر ہوں اور اپنے دشمن کو ایک ایسا سبق دو کہ اس کی سات نسلیں بلوچ کا نام لینے سے پہلے ہزار بار سوچیں۔

مزید کہتے ہیں کہ آج ہمارے ساتھی شہید قربان ہوئے ہیں، ہماری مائیں بہنیں قربان ہوئے ہیں، اپنی جانوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرچکے ہیں صرف ہمارے لیئے، انہوں نے ہم پر ایک یقین و بھروسہ کیا تو ہم آئیں ان کا یقین اور بھروسہ نہیں توڑیں، انہوں نے یہی یقین رکھا تھا کہ آج جاکر خود کو قربان کرونگا، خود کو وطن و قوم کیلئے ٹکڑے ٹکرے کرونگا تو کل میرے قوم کے نوجوان، مائیں بہنیں آکر اس جنگ کو آگے بڑھائیں گے، اپنی قوم، آنے والی نسل اور سرزمین کو محفوظ بنائیں گے اور اپنے دشمن کو شکست دیں گے تو آئیے ان شہداء کے ارمانوں کی تکمیل کریں۔

فدائی مہزام بلوچ کہتا ہے کہ ایک چیز دیکھیں، کسی کو مرنے کا شوق نہیں اگر کوئی جاکر قربان ہوتا ہے تو ایک مقصد کیلئے قربان ہوتا ہے یہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے نوجوان، ماں بہنیں کس چیز کیلئے جارہے (قربان ہورہے) ہیں وہ صرف صرف اپنی سرزمین کو محفوظ بنانے کیلئے جارہے ہیں کیونکہ یہ ہماری سرزمین ہے ہم حق پر ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ جنگ ہماری ہے، اس جنگ کو ہمیں اپنانا ہوگا، ہمیں کسی اور کا انتظار نہیں کرنا ہے، اس کو یاد رکھیں اور آیئے اس جنگ کا حصہ بنیں۔

مہزام بلوچ کہتا ہے کہ آخر میں ایک بار پھر اپنے قوم کے نوجوانوں، ماؤں بہنوں کو کہنا چاہتا ہوں، کہ آئیے اس جنگ کا حصہ بنیں۔
اگر آج ہم نہیں اٹھے، اور اس جنگ کو نہیں اپنایا، دشمن کو شکست نہیں دیا، تو آنے والی نسل ہم سے بھی بدتر زندگی گزارے گی، اور ہم پر اسی طرح لعنت بھیجے گی، کیوں ہمارے قوم کے نوجوانوں نے قربانی نہیں دی اور ہمیں آزاد نہیں کیا، تو آئیے اس جنگ کا حصہ بنیں، یہ جنرل اسلم اور ریحان کا کاروان ہے۔ یہ آزادی تک اسی طرح بڑھتا رہے گا جیسے کہ کل فدائی سربلند یا کہ ہماری مائیں بہنیں اسی بندوق کو تھام کر گئے ہیں، مجھے بھی یقین ہے کہ میری شہادت کے بعد کوئی آئے گا اور اس بندوق کو تھام کر زنگ زدہ ہونے نہیں دے گا، گرنے نہیں دے گا۔

وڈیو پیغام میں مزید کہتا ہے کہ میں اپنے ان ماؤں اور بہنوں کو، جو ہماری حمایت کرتے رہے ہیں، جو فون کے ذریعے یا کہ براہ راست ہوا ہے۔ ان کاموں میں ہماری حمایت کرتے رہے ہیں جس کے باعث ہم وہ کام آسانی سے کرسکے ہیں۔ ان ماؤں بہنوں کو کہتا ہوں کہ آج ہم آپ سے جسمانی حوالے سے دور ہورہے ہیں لیکن ہمارے بعد وہ ساتھی جو بھوک و پیاس کی حالت میں پہاڑوں پر دشمن کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ ان (ساتھیوں) کو اپنے دلوں میں جگہ دیں اور ان کی حمایت و کمک کریں، وہ کسی بھی شکل میں ہو۔

اپنے گھر والوں کے نام پیغام میں فدائی مہزام کہتا ہے کہ میں اپنے بہنوں کو صرف یہی پیغام دینا چاہتا ہو کہ آج میں آپ لوگوں سے جدا ہورہا ہوں ، میرے شہادت کے بعد سوگ نہ منائیں۔ خوش رہیں کہ آپ کا بھائی وطن کیلئے دلہا بنا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ ہر بہن کے دل میں یہ خواہش ہوتی ہے کہ میرا بھائی بڑا ہوگا، میں اس کو دلہا بناؤں گا، اس کے ہاتھوں پر مہندی لگاؤں گی، اپنے سہلیوں کیساتھ بیٹھ کر خوشیاں مناؤں گی۔ میں یہی کہتا ہوں کہ آج (میرے شہادت کے وقت) اپنے سہیلیوں کے ہمراہ خوشیاں مناؤ کیونکہ تمہاری بھائی وطن کیلئے دلہا بنا ہے، کیونکہ ہمیں جانا ہے، ہمیں یہ (عمل) کرنا ہے۔

وہ کہتا ہے کہ آج ہم یہ (عمل) نہیں کریں گے تو کون کرے گا۔ یہ ہماری جنگ ہے، اسے ہمیں خود آگے لیجانا ہے، ہر چیز خود سے شروع کرنی ہے، اسی لیے میں یہی کہوں گا کہ بلکل بھی افسرہ نہ ہو۔ جب بھی ہماری آپ کو یاد ستائے تو ان ساتھیوں کو یاد کریں جو آپ کے خاطر پہاڑوں کو مسکن بنا کر دشمن سے مقابلہ کررہے ہیں۔ ان کو اپنے دلوں میں یاد کریں اور قوم، ساتھیوں اور اس سرزمین کی خاطر جیسی بھی قربانی دے سکتے ہو دو۔ یہ جائز ہے، آپ کا حق بنتا ہے، آپ اپنا فرض ادا کریں کیونکہ ہر خاندان کو، اس میں ہر شخص کو اپنا فرض خود ادا کرنا ہوگا۔ جہاں بھی رہو خوش اور سلامت رہو

مہزام بلوچ کہتا ہے کہ آخر میں یہی کہنا چاہتا ہوں کہ آپ بھی آئیں، اپنے قوم کے ہمراہ اس جنگ کا حصہ بنیں۔ رخصت اف اواراُن (رخصت نہیں، ایک ساتھ ہیں)۔