بلوچستان مظاہرے، مختلف اضلاع میں انٹرنیٹ سروس معطل

63

بلوچستان کے مختلف اضلاع بشمول کوئٹہ میں موبائل انٹرنیٹ سروس تاحال معطل ہے جس کے باعث عوام اور صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

گزشتہ ماہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے احتجاج کے دوران کوئٹہ میں کئی روز تک انٹرنیٹ بند رکھا گیا تھا اور اب بلوچستان نیشنل پارٹی کے لانگ مارچ کے بعد سے بھی انٹرنیٹ سروس میں رکاوٹیں جاری ہیں۔

کوئٹہ اور مستونگ میں یکم اپریل سے موبائل انٹرنیٹ معطل ہے تاہم پی ٹی سی ایل اور لینڈلائن انٹرنیٹ بدستور فعال ہیں حکومتی مؤقف کے مطابق انٹرنیٹ سروس کی معطلی سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کی گئی ہے مگر بی این پی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام احتجاج کو ناکام بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

انٹرنیٹ کی بندش کے باعث عوام خاص طور پر بیرون ملک مقیم افراد کے اہل خانہ عید کے موقع پر اپنے پیاروں سے رابطہ قائم کرنے میں مشکلات کا شکار رہے۔

بی این پی نے ماہ رنگ بلوچ سمیت بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکنان کی گرفتاری کے خلاف 28 مارچ کو وڈھ سے کوئٹہ تک لانگ مارچ کا آغاز کیا تھا تاہم مظاہرین کو کوئٹہ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا جس پر بی این پی نے مستونگ میں لک پاس ٹنل کے قریب دھرنا دے دیا جو گزشتہ ایک ہفتے سے جاری ہے۔

بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل کا کہنا ہے کہ حکومت سے مذاکرات کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں اس لیے چھ اپریل کو دوبارہ کوئٹہ کی جانب پیش قدمی کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ مستونگ میں ہماری بات نہیں سنی جا رہی اب کوئٹہ جا کر ہی دم لیں گے۔

حکومت نے مظاہرین کو کوئٹہ آنے سے روکنے کے لیے مستونگ اور کوئٹہ کے درمیان مختلف مقامات پر کنٹینرز اور رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں جبکہ لک پاس ٹنل کے قریب سڑک پر گڑھے کھود کر راستے کو مزید بند کر دیا گیا ہے۔

راستوں کی بندش کے نتیجے میں 28 مارچ سے اب تک مستونگ، قلات، سوراب، خضدار، نوشکی، خاران، چاغی، واشک، پنجگور، کیچ اور گوادر کا کوئٹہ سے زمینی رابطہ منقطع ہے۔

دوسری جانب، گوادر حق دو تحریک اور جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی سربراہ مولانا ہدایت الرحمان نے بھی ماہ رنگ بلوچ سمیت بلوچ خواتین کی گرفتاری کے خلاف سات اپریل کو گوادر سے کوئٹہ تک لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔

ادھر جمہوری وطن پارٹی کے رہنما اور سابق رکن صوبائی اسمبلی نوابزادہ گہرام بگٹی کو بھی حکومت نے گرفتار کر لیا ہے وہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے خلاف کریک ڈاؤن اور بلوچ خواتین کی گرفتاری کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان کر چکے تھے تاہم احتجاج شروع ہونے سے پہلے ہی ڈیرہ بگٹی کے ڈپٹی کمشنر کے حکم پر تھری ایم پی او کے تحت انہیں حراست میں لے لیا گیا۔