پاکستان کی جانب سے پرامن بلوچ مظاہرین پر طاقت کا استعمال بلوچ نسل کشی کا تسلسل ہے۔ مظاہرین
ہفتے کے روز یورپی ملک جرمنی کے شہر ہنوفر میں بلوچ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد جن میں خواتین کی بڑی تعداد شامل تھی، نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی قیادت کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت دیگر رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا۔
ہنوفر میں مظاہرے کے دوران شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پوسٹرز اٹھا رکھے تھے جن پر بلوچ نسل کشی اور جبری گمشدگیوں کے خلاف نعرے درج تھے۔
اس دوران مظاہرین نے بڑی تعداد میں مقامی جرمن زبان میں پمفلٹس بھی تقسیم کیے جن میں بلوچستان میں حالیہ بی وائی سی کے خلاف کریک ڈاؤن سمیت پاکستان کے جنگی جرائم کی تفصیلات شامل تھیں۔
جرمنی مظاہرے سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے خلاف جاری ریاستی کریک ڈاؤن پرامن شہریوں پر طاقت کا بے دریغ استعمال بلوچ نسل کشی کے جاری سلسلے کی عکاسی کرتا ہے۔
مقررین نے کہا کہ زیرِ حراست بلوچ سیاسی کارکنان کو قتل کرکے ان کی مسخ شدہ لاشیں رات کے اندھیرے میں دفنایا جانا اور بعد ازاں انہیں نام نہاد “مسلح افراد” قرار دینا ریاست کی ناکامی اور ظلم کا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا مہذب دنیا اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں کو ان لاشوں کی غیرجانبدار تحقیقات کرانی چاہیے تاحال پاکستان ہزاروں بلوچ لاشوں کو بغیر ڈی این اے شناخت کے لاوارث دفنا چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، شاہ جی اور ان کے ساتھیوں کی حالیہ گرفتاریاں مزاحمتی آوازوں کو وحشیانہ انداز میں خاموش کرانے کی تازہ مثال ہیں، 22 مارچ 2025 کو معروف بلوچ انسانی حقوق کارکن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو ان کی ساتھیوں سمیت کوئٹہ میں ایک پرامن دھرنے کے دوران گرفتار کیا گیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ اور ان کے ساتھیوں پر 1960 کے سخت گیر ایم پی او آرڈیننس کے تحت دہشت گردی، بغاوت اور قتل جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں جو کہ ریاست کی جانب سے انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کا واضح ثبوت ہیں۔
انہوں نے اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ ریاستی جبر کی مذمت کرے اور پاکستانی حکومت سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت تمام گرفتار کارکنان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرے۔
مقررین نے مزید کہا کہ ہم جرمن عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ ان کے ساتھیوں اور بلوچستان کے مظلوم عوام کے لیے انصاف کی اس جدوجہد میں ہمارا ساتھ دیں۔
انہوں نے آخر میں کہا جرمن عوام کو چاہیے کہ وہ انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کریں اور بلوچ قوم کی حقِ خود ارادیت و آزادی کی تحریک کی حمایت کریں۔