بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے کہا ہے کہ ہم پہلے بھی واضح کرتے آئے ہیں اور اب بھی واضح کرتے ہیں کہ ہم کسی کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کر رہے۔ ہم بحیثیت قوم آزاد، شریف اور پرامن زندگی گزارنے کے خواہش مند ہیں۔ لیکن جو زندگی ریاست نے ہم سے چھین لی ہے، وہ ہمیں مارنا چاہتی ہے۔ ہر وقت ہماری عزت نفس کو چیلنج کیا جاتا ہے۔ ہمیں اٹھایا جاتا ہے، ہماری لاشیں ویرانوں میں پھینکی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ آج قلات کے علاقے کوہنگ سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ عبدالمالک ولد محمد یوسف، جنہیں 11 اکتوبر 2024 کو تربت سے پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا، ایک جعلی انکاؤنٹر میں شہید کر دیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ مسئلہ صرف ایک ہے “جو زندگی ریاست نے ہمارے لیے متعین کی ہے، وہ ہمیں قبول نہیں”۔ ریاست کی متعین کردہ زندگی یہ ہے کہ وہ مارتا جائے اور ہم خاموش رہیں، اٹھایا جائے اور ہم خاموش رہیں، تشدد کے سیلوں میں تاحیات بند رکھا جائے اور ہم خاموش رہیں، اپنے پیاروں کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کیا جائے اور ہم خاموش رہیں، ہر وقت موت اور اغوا کے خوف کے سائے میں رکھا جائے اور ہم خاموش رہیں۔ ہمیں یہ زندگی بالکل قبول نہیں۔
مزید کہاکہ اگر ریاست سمجھتی ہے کہ مسئلہ ماہ رنگ ہے، صبیحہ بلوچ ہے، شاہ جی ہے یا بیبگر ہے، تو ریاست غلط سمجھتی ہے۔ مسئلہ خود ریاست ہے، کیونکہ جب تک ریاستی دہشت گردی، ظلم و جبر برقرار رہے گا، ہم ہوں یا نہ ہوں، کوئی نہ کوئی ضرور ہوگا۔ کیونکہ کسی نہ کسی کو اٹھنا پڑے گا۔ اس لیے مسئلہ ہم میں نہیں، ریاست میں ہے۔ ہم تو حق پر ہیں۔ ہم دکھ، ظلم و جبر، موت اور اغوا کے خوف سے آزاد، پرامن اور خوشحال زندگی چاہتے ہیں۔