انقلابی رہنماؤں کے خطوط: جدوجہد کی صدا
تحریر: ایس کے آزاد
دی بلوچستان پوسٹ
تاریخ کے صفحات پر انقلابی رہنماؤں کے خطوط ہمیشہ ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ یہ خطوط نہ صرف ان کے نظریات اور مزاحمتی جذبے کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ تاریخ میں ان کے کردار کو بھی امر کر دیتے ہیں۔ جیل کی سلاخوں کے پیچھے لکھی گئی یہ تحریریں ظلم، جبر اور استبداد کے خلاف مزاحمت کا مظہر ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کا اپنے خاندان کے نام لکھا گیا خط بھی اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے، جو نہ صرف بلوچ قومی جدوجہد کی جھلک پیش کرتا ہے بلکہ انقلابی تحریکوں کی عمومی روح کو بھی واضح کرتا ہے۔
انقلابی خطوط: جدوجہد کی گواہی
تاریخ میں بہت سے انقلابی رہنما ایسے گزرے ہیں جنہوں نے جیل سے اپنے نظریات کو قلم کے ذریعے زندہ رکھا۔ نیلسن منڈیلا، بھگت سنگھ، چی گویرا، اور فیڈل کاسترو جیسے رہنماؤں کے خطوط آج بھی دنیا بھر میں مزاحمت اور آزادی کی تحریکوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ نیلسن منڈیلا نے اپنی قید کے دوران متعدد خطوط لکھے، جن میں سے ایک میں انہوں نے کہا تھا:
آزادی کی راہ میں قربانی دینا کوئی جرم نہیں بلکہ ایک فریضہ ہے۔”
بھگت سنگھ نے اپنی سزائے موت سے قبل جیل میں جو خطوط لکھے، وہ آج بھی برصغیر کی آزادی کی تاریخ میں انمٹ نقوش چھوڑ چکے ہیں۔ ایک خط میں وہ لکھتے ہیں:
طاقت کا سرچشمہ بندوق نہیں، بلکہ عوام کی اجتماعی بیداری اور شعور ہوتا ہے۔اسی طرح چی گویرا کے خطوط میں بھی انقلابی جوش، قربانی، اور ایک روشن مستقبل کی امید دکھائی دیتی ہے۔ ان کے مشہور الفاظ ہیں:ایک حقیقی انقلابی کو ہمیشہ رہنمائی کے لیے محبت کی طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔
“ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کا خط: انقلابی عزم کی جھلک
ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کا جیل سے اپنے خاندان کے نام خط بھی انہی تاریخی خطوط کی فہرست میں ایک نیا باب ہے۔ ان کا یہ خط نہ صرف ان کی نظریاتی پختگی اور مزاحمتی سوچ کو ظاہر کرتا ہے بلکہ بلوچستان کی سیاسی و سماجی صورتحال کا بھی آئینہ ہے۔ وہ لکھتی ہیں:ہمارے والد نے وہ فیصلہ کر لیا تھا جب انہوں نے خود کو بلوچ حقوق کے لیے وقف کیا۔ اور ان کے بعد، ہم سب نے ان کے فلسفے کو اپنایا اور اس جدوجہد سے وابستہ ہو گئے۔”
یہ الفاظ صرف ایک بیٹی کی اپنے والد کے ساتھ وفاداری کی علامت نہیں، بلکہ وہ ایک اجتماعی مزاحمت کی کہانی بھی بیان کر رہے ہیں۔ وہ جانتی ہیں کہ جدوجہد کا راستہ آسان نہیں ہوتا، لیکن وہ عزم کی بلندی پر کھڑی ہیں۔ ان کا کہنا ہے:
یہ وقت ہے مضبوط رہنے کا، عہد پر قائم رہنے کا، اور اپنے بلوچ بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا۔”
یہ جملہ ایک عہد کی تجدید ہے، ایک وعدہ ہے جو انقلابی تحریکوں کے تمام کارکنوں کے لیے مشعل راہ بن سکتا ہے۔
خطوط: انقلابی تحریکوں کا زندہ ورثہ
انقلابی رہنماؤں کے خطوط صرف ایک ذاتی جذباتی اظہار نہیں ہوتے، بلکہ یہ ان کی فکر، نظریات، اور تحریک کے مستقبل کے لیے ان کی امیدوں کا اعلان ہوتے ہیں۔ یہ خطوط ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ انقلاب ہمیشہ قربانی مانگتا ہے اور ہر دور کے مظلوموں کو ایک نیا سورج دکھانے کے لیے کوئی نہ کوئی مہرنگ بلوچ، کوئی بھگت سنگھ، کوئی منڈیلا جیل کی تاریکیوں میں روشنی پیدا کرتا ہے۔ ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کا خط بھی اسی روایت کا حصہ ہے۔ یہ صرف ایک بہن کا اپنے بھائی بہنوں کے نام پیغام نہیں، بلکہ ایک تحریک کا منشور ہے، جو آنے والے وقت میں ایک نئی تاریخ رقم کرے گا۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔